خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 226

خطبات محمود ۲۲۶ سال 1927ء مجسم ہے وہ ہمارے سامنے آئے جسے ہم دیکھیں۔اور نہ اس پر خدا تعالیٰ ان سے ناراض ہوا۔جس بات پر ناراضگی ہوئی وہ یہ تھی کہ انہوں نے کہا ہم پہلے نشانات نہیں مانتے۔ہمیں اب نشان دکھایا جائے۔خدا نے کہا تم نے ہمارے پہلے نشانوں کی بے قدری کی اس لئے ہمیں بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔جاؤ ذلیل اور خوار ہوتے پھرو۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے میرے متعلق جو نشانات دکھائے۔اگر کوئی ان کی پرواہ نہیں کرتا تو وہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کو ضرور حاصل کریگا۔خدا تعالیٰ کے کام نیارے ہوتے ہیں۔حضرت صاحب کے کئی مخالف ابھی تک زندہ ہیں۔لیکن ان کی حالت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ کس طرح زندہ ہیں۔مگر جیسا کہ خدا تعالٰی نے مجھ پر اس وقت ظاہر کیا جب میں ابھی بچہ تھا کہ اِنَّ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ - تیرے ماننے والوں کو تیرے منکروں پر غالب رکھوں گا وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ اپنی شرارتوں سے سلسلہ کو نقصان پہنچائیں گے ان کی ہستی ہی کیا ہے۔بڑی سے بڑی طاقت بھی اگر مقابلہ کے لئے کھڑی ہوگی تو خدا تعالٰی کے فضل اور رحم کے ماتحت اس پر وہ لوگ جو میرے ماننے والے ہوں گے انشاء اللہ غالب رہیں گے۔یہ خدا تعالی کی بتائی ہوئی بات ہے۔کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ان کا دعوئی اخلاص اور دین کی خدمت سب فضول جائیں گے۔جس طرح حضرت موسیٰ کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے بلغم کا ایمان نکل گیا تھا۔اسی طرح خواہ کوئی معلم بھی ہو۔اگر وہ اس مقام کا مقابلہ کرے گا جس پر خدا تعالٰی نے مجھے کھڑا کیا ہے تو اس کا بھی وہی حال ہو گا جو بلعم کا ہوا تھا یا اس سے بھی بد تر - یہ زمانہ اسلام کی آخری ترقی کا زمانہ ہے۔میں نبوت یا ماموریت کا دعویدار نہیں ہوں۔یہ صرف خدا کا فضل ہے کہ اس نے مجھے خلافت کے لئے چنا۔میں نے کبھی خلافت کے لئے دعا نہیں کی اور نہ کبھی اس کے لئے خواہش کی۔اس کے لئے کوئی ظاہری یا خفیہ کوشش بھی نہیں کی بلکہ میں تو اس سے خائف رہا۔مگر خدا تعالیٰ نے جبرا پکڑ کر مجھے اس مقام پر کھڑا کر دیا۔اور خدا تعالٰی اپنے کئے ہوئے پر پچھتائے گا نہیں۔کیونکہ اسلام کا خداجو کام کرتا ہے۔وہ اس سے پچھتایا نہیں کرتا۔ه تذکره صفحه ۵۳۸ - ایڈیشن چهارم الفضل ۱۴ نومبر۱۹۲۷ء)