خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 225

خطبات محمود ۴۲۵ سال 1927ء اب وہ جو چاہیں کہیں خدا کی گرفت میں نہ آئیں گے۔حالانکہ خدا تعالٰی جب کسی کو چتا ہے تو اس پر نکتہ چینی کرنے والا کبھی معاف نہیں کیا جاتا۔دیکھو رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے قضاء کے معاملہ میں میں بھی غلطی کر سکتا ہوں مثلاً ہو سکتا ہے کہ میں ایک کا حق سمجھوں۔مگر اس کا نہ ہو۔(بخاری کتاب الاحکام باب موغلة الامام الصوم اگو رسول کریم ﷺ نے یہ فرمایا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں۔اگر کوئی اپنا یہی شغل بنا لے کہ کہتا پھرے۔محمد ال نے فلاں غلط فیصلہ کیا تو چاہے وہ فیصلہ غلط ہی ہو تو بھی ایسا شخص خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے آئے گا۔کیونکہ اس کی غرض یہ ہوگی کہ رسول کریم کی تذلیل کرے۔اس وجہ سے خدا تعالٰی اسے پکڑے گا۔خدا تعالٰی فرماتا ہے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ رسول کے فیصلہ کو دل سے نہ مانے اور اسے عملاً تسلیم نہ کرے (النساء:۶۶) لیکن باوجود اس کے کہ رسول کریم نے کہہ دیا ہے کہ اس قسم کی غلطی ہو جانا منافی نبوت نہیں۔لیکن چونکہ اس کے بیان کرنے کی غرض سوائے اس کے نہیں ہو سکتی کہ آپ کی تذلیل کی جائے اس لئے ایسا شخص بھی خدا کے غضب سے بچ نہیں سکے گا۔پس ایسے امور جن سے سلسلہ کی ہتک اور تذلیل ہوتی ہو۔میں کہتا ہوں جب ایسی باتیں جن کا تعلق بشریت سے یا غلطی سے ہو۔ان کا بھی بیان کرنا اور ان کے خلاف باتیں مشہور کرنا جن کو خدا تعالٰی نے کسی کام کے لئے کھڑا کیا ہو خدا کے غضب کا مستحق بنا دتیا ہے۔کیونکہ اس کے نتیجہ میں خدا کے فعل کو نقصان پہنچتا ہے۔تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ وہ لوگ جو اعتراض میں شرافت کی حد سے بھی نکل جائیں۔وہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب نہ ہوں جب خدا کا رسول غلطی کر سکتا ہے اور ہزار فیصلوں میں سے ایک فیصلہ اس کا نا درست ہو سکتا ہے۔تو میرے لئے ہزار میں سو کا غلط ہونا ممکن ہے لیکن باوجود اس کے اگر کوئی یہ کہتا پھرے کہ اس نے فلاں فیصلہ غلط کیا۔فلاں غلطی کی۔چاہے وہ غلطی ہو پھر بھی اسے خدا تعالی پکڑے گا۔کیونکہ ایسا آدمی نظام کو توڑتا ہے پس میں کہتا ہوں خدا کے نشانوں سے آنکھیں بند نہ کرو اگر جان بوجھ کر بند کرو گے تو خدا تعالیٰ فی الواقع دل کا نابینا بنادے گا۔کئی لوگ حضرت صاحب کے پاس آکر کہتے کوئی نشان دکھاؤ تو آپ فرماتے کیا پہلے نشانات سے تم نے کوئی فائدہ اٹھایا کہ اور چاہتے ہو۔جب پہلے ہزاروں نشانات سے تم نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا تو کسی اور سے کس طرح اٹھاؤ گے۔ایسے لوگ ہمیشہ محروم ہی رہے اسی طرح یہود نے کہا تھا لَن تُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللهَ جَهْرَةً (البقره: ۵۶) کہ ہم نہیں مانیں گے جبتک خدا کو کھلا کھلانہ دیکھ لیں خدا تعالٰی نے کہا۔جاؤ تم پر پھٹکار اور لعنت ڈالی جاتی ہے یہود کا یہ مطلب نہ تھا کہ خدا