خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 211

خطبات محمود سال 1927ء اس کا سارا جسم ہل جاتا ہے۔گردن اٹھ جاتی ہے۔اور وہ اپنی طاقت کا آخری ذرہ تک اس لئے خرچ کر دیتا ہے کہ بچ جاؤں۔یہ اس انسان کی حالت ہوتی ہے جو بیہوشی میں ہوتا ہے۔جس کی طاقت خرچ ہو چکی ہوتی ہے۔جو سوکھ کر کانٹا ہو چکا ہوتا ہے۔پھر اس کی کیا حالت ہوگی جو بے ہوش نہ ہو۔اور جس کی طاقت خرچ نہ ہوئی ہو۔ایک چھوٹے بچہ کو ہی کنوئیں میں ڈراوے کے طور پر و تکمیل کر دیکھو کس طرح وہ چمٹ جاتا ہے۔عام طاقت سے آٹھ دس گنے زیادہ طاقت اس میں ہو جائیگی۔ایک ایسا آدمی جسے کشتی میں پہلوان ایک منٹ میں گرا سکتا ہے۔اس کے متعلق پہلوان سے کہو۔کنوئیں میں گرا کر تو دیکھیے۔ایک منٹ چھوڑ ایک گھنٹہ میں بھی نہیں گرا سکے گا۔کیوں؟ اس لئے کہ کشتی میں تو وہ سمجھتا ہے کہ مقابلہ ہے اگر گر بھی گیا تو کیا ہوا مگر جب وہ یہ سمجھے کہ موت آنے لگی ہے تو اس طرح ساری طاقت خرچ کرے گا اور اتنا زور لگائے گا کہ اول تو زبر دست کے برابر ہو جائے گا۔ورنہ اس کے قریب قریب رہے گا۔جب خدا تعالٰی کی طرف سے دنیا میں کوئی سلسلہ قائم کیا جاتا ہے تو اس وقت زیادہ جوش اور طاقت کے ساتھ ایسی ارواح خبیثہ جو شیطان سے تعلق رکھتی ہیں۔یا بعض گناہوں کی وجہ - شیطان نے ان پر تصرف پایا ہوتا ہے جوش میں آجاتی ہیں اور سارا زور اس بات کے لئے لگاتی ہیں کہ کسی طرح سچائی دنیا میں نہ پھیلے۔ایسے لوگ دیدہ دانستہ جانتے بوجھتے شیطان کے قبضہ میں آجاتے ہیں۔لیکن کچھ اور ہوتے ہیں جو اپنے نفس کی شیطنت سے خود بھی واقف نہیں ہوتے۔وہ شیطان کے ہتھیار ہوتے ہیں لیکن سمجھتے ہیں شیطان سے ان کا کوئی تعلق نہیں ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوتے ہیں۔اور ان کے دل غلافوں میں ہوتے ہیں۔وہ آنکھیں رکھتے ہیں مگر دیکھتے نہیں۔وہ دل رکھتے ہیں مگر سمجھتے نہیں۔اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ مجرم نہیں۔ان کی آنکھوں کا پردہ میں اور دل کا غلاف میں ہونا بھی ان کے جرم کے نتیجہ میں ہے۔ابو جہل کیا یہ سمجھتا تھا کہ رسول کریم ﷺ کی مخالفت کرتے ہوئے اس پر خدا کا غضب نازل ہو گا۔اگر وہ یہ سمجھتا تو بدر کے میدان میں یہ کیوں کہتا کہ اے خدا اگر محمد سچا ہے تو ہم پر پتھر برسا- (الانفال : ۳۳) لیکن ابو جهل جس جہالت میں مبتلا تھا وہ چونکہ اس کے گناہوں کا نتیجہ تھا اس لئے سزا سے نہیں بچ سکا۔اسی جہالت کی سزا سے کوئی بچ سکتا ہے جو گناہوں کے نتیجہ میں نہیں ہوتی۔ایک پاگل دماغ میں نقص آجانے پر اگر کوئی حرکت کرتا ہے تو وہ سزا سے محفوظ رہ سکتا ہے۔مگر وہ جو رسول کی مخالفت کی وجہ سے پاگل ہوتا ہے وہ سزا سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔اسی طرح وہ آدمی جسے ایسے سامان میسر ہوں کہ دین حاصل