خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 171

خطبات محمود 141 سال 1927ء کو اٹھاؤ اس میں یہی رونا ر دیا گیا ہے کہ قادیانی لوگ ہندوؤں سے چھوت چھات کرنے کی تلقین کر کے فتنہ پھیلا رہے ہیں۔اور امام جماعت احمدیہ اس طرح شرارت کر رہا ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر یہ شرارت ہے تو کیا تمہارے رشیوں منیوں اور تمہارے باپ دادوں نے مسلمانوں سے چھوت چھات کرنے کا حکم دیکر یہی شرارت نہیں کی۔پھر اب تم کیوں ناراض ہوتے ہو۔اگر مسلمانوں کا بدلے کے طور پر ہندوؤں کے ہاتھ کی چیزیں نہ کھانا شرارت ہے۔تو پھر تمہارا کیا حال ہے جو چھ سو سال سے مسلمانوں کے ہاتھ کی چیزیں کھانے سے پر ہیز کر رہے ہو۔میں نے اس بات کا اس لئے ذکر کیا ہے تا یہ بتاؤں کہ ایک ایسی بات جو تمدنی لحاظ سے مسلمانوں کے لئے نہایت ضروری ہے۔اس کے متعلق تحریک کرنے سے ہندو اس قدر ناراض ہو رہے ہیں جس کی کوئی حد نہیں۔میں پوچھتا ہوں اس پر تم کیوں ناراض ہوتے ہو۔کیا اسی لئے نہیں کہ اس کا اثر تمہاری ذات پر پڑتا ہے۔تمہاری پوری کچوری پر پڑتا ہے۔اگر تمہیں اپنی پوری کچوری کے نہ بکنے کی وجہ سے اس قدر غصہ آ سکتا ہے تو خود ہی سوچ لو جب محمد اللہ کی ذات پر حملہ کیا جائیگا اس وقت مسلمانوں کو کس قدر غصہ اور جوش آئے گا۔وہ قوم جو اپنے دہی بڑوں اپنے پکوڑوں اور اپنی جلیبیوں پر اس قدر غصہ اور جوش کا اظہار کر سکتی ہے اس کا کیا حق ہے کہ مسلمانوں کے پیارے آقا اور محسن کو گالیاں دے اور پھر کے مسلمان کیوں شور مچاتے ہیں۔اس کے حوصلہ اور وسعت قلب کا اسی سے پتہ لگ گیا ہے کہ وہ بات جو جواب کے طور پر مسلمانوں کو شروع کرنے کے لئے کی گئی ہے اسی کے متعلق کہا جارہا ہے کہ یہ مرزا قادیانی کی شرارت ہے۔لیکن یہی لوگ رسول کریم ا کی ہتک کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں مسلمان کیوں شور مچاتے اور کیوں گورنمنٹ سے کہتے ہیں کہ دل آزار تحریروں کو روکنے کے لئے قانون بنائے۔اور پھر خود ہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ مسلمان سمجھتے ہیں ان کے رسول کی ذات میں نقص پائے جاتے ہیں۔میں کہتا ہوں مسلمانوں کے لئے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں وہ اگر شور مچاتے ہیں تو اس لئے کہ ہندو نا پاک حملے کرتے ہیں اور ان کو برا لگتا ہے۔باقی رہا یہ کہنا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ کوئی غصہ نہیں دکھاتے اس لئے معلوم ہوا ان میں وسعت حوصلہ بہت زیادہ ہے اور وہ اپنے مذہب پر حملوں کو فراخ دلی سے برداشت کر سکتے ہیں۔درست نہیں۔بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی انسانیت مرچکی ہے اور ان میں احساس ہی نہیں رہا کہ شرافت کیا ہوتی ہے دیکھو یہ عام بات ہے کہ اگر کسی شریف آدمی کے سامنے دوسرے کے باپ کو گالیاں دی جائیں تو وہ گالیاں دینے والے کو منع کرے گا کہ ایسا نہ کرو۔یہ