خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 161

خطبات محمود 141 سال 1927ء پیدا ہو اس کے متعلق سوچنا چاہئے کہ کس بات کے لئے غصہ اور جوش پیدا ہوا ہے۔اگر جوش اور غصہ اپنے نفس کے لئے پیدا ہوا ہے تو پھر جو نفس کے اسے مان لینا چاہیے۔اگر ہمارا غیظ و غضب اپنی ذات کے لئے ہے تو پھر جو نفس کہتا ہے کرنا چاہیے اور اگر نفس کہتا ہے گالیاں دو۔تو گالیاں دینی چاہیں۔اگر نفس غصہ ہونے کے لئے کہتا ہے۔تو غصہ ہونا چاہیے لیکن ہمارا غصہ ہمار ا غضب ہماری غیرت اور ہمارا جوش اپنے نفس اور اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ جس کی ہتک کی جاتی ہے۔وہ ایسی اعلیٰ تعلیم لے کر آیا کہ یہ گالیاں دینے والے اس تعلیم کے کناروں تک تو کیا اس کی ادنی حد تک بھی نہیں پہنچے۔اور اگر ہمارا جوش اس لئے ہے کہ وہ انسان جسے دشمن بد نمونہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔اس کے بغیر کوئی انسانیت ہی نہیں۔اور کوئی روحانی رتبہ ہی نہیں۔پھر اگر ہمارا جوش اور غصہ اس لئے ہے کہ جس انسان پر حملے کئے جاتے ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا اعلیٰ سے اعلیٰ اور بہترین نمونہ ہے۔جس سے بڑھ کر انسان میں طاقت ہی نہیں۔اگر صحیح ہے۔تو پھر غصہ اور جوش کے وقت ہمارے مد نظر یہ بات رہنی چاہیے کہ اس غصہ پر بھی اسی انسان کی حکومت قائم ہو جس کی حکومت ہمارے سکون اور اطمینان پر ہے۔اسی طرح اگر ہمار ا غصہ اور جوش اسلام کے لئے ہے۔تو وہ اسلامی احکام کے ماتحت ہونا چاہیے۔اور اسلام جہاں یہ کہتا ہے کہ خدا اور اس کے رسول کے لئے غیرت دکھاؤ۔اسلام جہاں یہ حکم دیتا ہے کہ جس دل میں خدا اور رسول کی محبت کسی اور چیز سے کم ہے اس میں ایمان ہی نہیں۔وہ خدا کے غضب کے نیچے ہے۔جس کا اسے انتظار کرنا چاہیے کہ وہ آئے اور اسے تباہ کر ڈالے۔وہاں اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ اعلیٰ اخلاق کو کسی حالت میں بھی نہ چھوڑو۔خواہ غصہ میں ہو یا آرام میں پس میں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان خطرناک دنوں میں اپنے جوشوں کو قابو میں رکھیں اور بجائے کسی اور طرح نکالنے کی کوشش کرنے کے اس طرح نکالیں جس سے اسلام کو فائدہ پہنچے دیکھو راجباہوں کے ذریعہ بھی پانی کھیتوں میں پہنچتا ہے۔مگر بند توڑ کر آنے والا پانی کھیتی کو تباہ اور برباد کر دیتا ہے۔اور راجباہ کا پانی کھیت کو سیراب کرتا ہے۔اسی طرح غصہ کی حالت کی کاروائی ایسی ہوتی ہے۔جیسے نہر کا کنارہ ٹوٹ جانے سے پانی کا نکلنا یا دریا کا اچھل پڑنا۔کوئی انسان اس بات پر خوش نہیں ہو سکتا کہ دریا میں طغیانی آئی۔کیونکہ طغیانی بربادی اور تباہی کا موجب ہوتی ہے۔اسی طرح غصے کی کاروائی بھی تباہی لاتی ہے جوش اور غیرت قابل قدر جذبات ہیں۔مگر اسی حد تک کہ عقل پر پردہ نہ ڈالیں اگر پردہ ڈالیں تو انسان صحیح طور پر کام نہیں کر سکتا۔اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اصل کام کرنے سے محروم رہ جاتا ہے۔