خطبات محمود (جلد 11) — Page 146
خطبات محمود حکم کے ماتحت کی۔۱۴۶ سال 1927ء مسٹر گاندھی نے گورنمنٹ کے خلاف زور لگایا۔گورنمنٹ نے اس کا کیا کرلیا۔پھر ہم جو گورنمنٹ کے برخلاف کچھ نہیں کرتے۔اگر چپ ہو رہتے اور ان لوگوں کو سمجھانے کی کوشش نہ کرتے۔جو گورنمنٹ کے خلاف شور ڈال رہے تھے تو ہم کو کیا خوف ہو سکتا تھا۔کلکتہ اور دوسرے مقامات پر ڈاکٹر مونجے اور پنڈت مالوی کے خلاف گورنمنٹ نے حکم دیا کہ لیکچر نہ دو گروہ کھلے طور پر ان حکموں کی خلاف ورزی کرتے رہے۔گورنمنٹ ان کا کچھ نہ کر سکی۔پونا میں ڈاکٹر مونجے کو حکم دیا گیا کہ وہ وہاں لیکچر نہ دیں۔مگر وہ لیکچر دے گئے اور گورنمنٹ ان کا کچھ نہ کر سکی۔پس جب ہم دیکھتے ہیں کہ جو قانون توڑتے ہیں گورنمنٹ ان کا کچھ نہیں کر سکتی تو ہم جو گورنمنٹ کے کسی قانون کو نہیں توڑتے ہم کو کیا خطرہ ہو سکتا تھا اگر ہم گھروں میں بیٹھے رہتے اور اس طرح وفاداری نہ کرتے تو کیا گورنمنٹ ہم کو قید خانوں میں ڈال دیتی ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یا حضرت خلیفہ اول نے یا میں نے کبھی ان خدمات کے صلہ میں جو بحیثیت قوم ہم نے گورنمنٹ کی کی ہیں ایک پیسہ کی درخواست بھی گورنمنٹ سے کی ہے؟ کبھی کسی انعام کی خواہش کی ہے؟ کبھی کسی خطاب یا زمین یا جائیداد کی آرزو کی ہے ؟ کیا اس چالیس سالہ خدمت اور وفاداری کے بدلے ہم نے کسی انعام کے لئے گورنمنٹ سے کہا ہے۔کیا کوئی گورنمنٹ کا افسر ہماری ایسی درخواست پیش کر سکتا ہے۔میں گورنمنٹ کے تمام افسروں کو اس بات کا چیلنج دیتا ہوں کہ وہ بتائیں کیا کبھی کوئی ایسی درخواست ہماری طرف سے پیش ہوئی ہے۔میں تمام افسروں سے کہتا ہوں کہ کیا بانی سلسلہ یا خلفائے سلسلہ میں سے کسی نے اس خدمت اور اس وفاداری کے عوض کسی انعام یا کسی جاگیر یا کسی خطاب یا روپے یا زمین کے لئے ان کے پاس درخواست کی۔یا اشارہ یا کنا یہ کبھی ان سے کہا ہے۔قومی وفاداری کے بدلہ میں قوم کا بہ حیثیت قوم نیک سلوک کا مطالبہ ناجائز بھی نہیں ہو تا لیکن ہم سے تو گورنمنٹ نے بہ حیثیت قوم بھی کبھی کوئی سلوک نہیں کیا۔دوسری اقوام کے احساسات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔مگر ہمارے بزرگوں کو گالیاں دینا گورنمنٹ کے نزدیک کوئی حرج ہی نہیں ہے۔پس اگر ہم سوالی بن کے ان کے دروازوں کے پاس نہیں گئے۔تو کیا حق ہے ان لوگوں کا کہ وہ ہماری وفاداری کے متعلق کوئی شبہ کریں۔اگر ہم نے گورنمنٹ کی وفاداری کی ہے۔اگر ہم نے گورنمنٹ کی خدمت کی ہے۔تو قرآن اور حضرت مسیح موعود کے حکم سے کی ہے۔پس یہ احسان ہے گو ر نمنٹ پر آنحضرت ایتی