خطبات محمود (جلد 11) — Page 139
خطبات محمود ۱۳۹ A سال 1927ء حضور الله کی بلندشان (فرموده ۱۰ جون ۱۹۲۷ء ) تشهد تعوذ اور سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: پچھلے دنوں میں نے درس کے موقع پر قادیان میں ایک رسالہ کا ذکر کیا تھا۔جس میں رسول کریم ﷺ کی ذات بابرکات کے متعلق اس قدر گندے الفاظ استعمال کئے گئے تھے جو کسی شریف الطبع انسان کی زبان اور قلم سے نہیں نکل سکتے۔ایسے الفاظ کا استعمال خود استعمال کرنے والے کی گندی فطرت پر تو دلالت کرتا ہے لیکن ان کا اثر اس شخص پر کچھ نہیں پڑ سکتا جس کو برا کہا گیا۔مگر باوجود اس کے ہر اس شخص کا جو اس ذات سے تعلق محبت رکھتا ہو جسے برے الفاظ سے یاد کیا گیا ہو فرض ہے کہ وہ اپنے محبوب اور محسن کی ہتک کے بر خلاف آواز اٹھائے۔گو جیسا کہ میں نے بتایا اس کی گالیوں کا اثر آنحضرت ﷺ پر نہیں پڑ سکتا۔چاند پر تھوکنے والا چاند پر تھوک نہیں ڈال سکتا۔وہ تھوک اس کے ہی منہ پر پڑتی ہے۔آنحضرت ﷺ کی شان تو وہ ہے جس کے سامنے چاند اور سورج بھی گر د ہیں۔ایک غیر متلو الہام کے ذریعہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔کولاک لما خَلَقْتُ الافلاک (موضوعات کبیر صفحه ۵۹ و مجمع الانوار جلد ۳-۴۷ ( ۵۱۲) اگر تیرے جیسے عظیم الشان انسان کی پیدائش مد نظر نہ ہوتی تو میں زمین اور آسمان کو بھی پیدا نہ کرتا۔پس زمین اور آسمان کی پیدائش جس وجود کی وجہ سے ہوئی۔اسے گالیاں دینا اور برا بھلا کہنا اس کی ہتک نہیں۔بلکہ اس شخص کی اپنی ہتک ہے جو گالیاں دیتا اور برا بھلا کہتا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس فطری تقاضا کی وجہ سے میں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔اور خدا کا فضل ہے کہ وہ رسالہ ضبط ہو گیا۔اور اس مضمون کا لکھنے والا اور اس رسالہ کا ایڈیٹر دونوں