خطبات محمود (جلد 11) — Page 138
خطبات محمود سال 1927ء سکیں گے۔زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ اک عارضی جوش ان میں پیدا ہو جائے۔لیکن وہ بات اس سے حاصل نہ ہوگی جس کی آج ضرورت ہے۔پس یہ خیال کر لینا کہ اتحاد سے پہلے سارے آدمی ایک خیال پر جمع ہو جائیں۔درست نہیں۔کیونکہ ایک فریق جو ایک بات کو عرصہ سے سچا سمجھتا چلا آ رہا ہے یا ایک کو کافر کہتا ہے۔کس طرح وہ کافر کہنا چھوڑ دے جب تک کہ اس کے متعلق یہ یقین پیدانہ ہو جائے کہ جسے میں کافر سمجھتا ہوں وہ کافر نہیں یا اس کی غلطی کی اصلاح نہ کی جائے۔پس اسلام اور مسلمانوں کی حالت پر رحم کر کے اس بات کے پیچھے نہیں پڑنا چاہئے جس کا نتیجہ جلدی نہ نکل سکے بلکہ اس کی طرف توجہ کرنی چاہئے جس کا نتیجہ جلد نکل سکے پس مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس تعریف پر غور کریں جو میری پیش کی ہوئی نہیں بلکہ در حقیقت قرآن شریف کی پیش کی ہوئی ہے۔پس جب آنحضرت ا کے نہ ماننے والے آنحضرت ا کے ماننے والوں کے ساتھ اس امر مشترک میں اکٹھے ہو سکتے ہیں کہ شرک کا مقابلہ کیا جائے۔تو کیوں ہم جو رسول کریم ﷺ کو ماننے والے ہیں رسول کریم کی رسالت کے لئے اکٹھے نہیں ہو سکتے جو ہم سب میں امر مشترک ہے۔ہم کو خود غرضی اور نفسانیت کو چھوڑ دینا چاہیئے۔جب یہ ہوگی ہم کچھ نہ کر سکیں گے اور جب یہ نہ ہوگی تو پھر یہ بات آسانی سے ہو سکے گی کہ اسلام کی مصیبت کے دن دور ہوں۔میں دعا کرتا ہوں کہ ہر فرقہ جو ایک دوسرے کو کافر سمجھتا ہے وہ متفق ہو جائے اور سمجھ لے کہ آج اس اتفاق اور صلح کی اسلام اور آنحضرت کی حرمت کے لئے بڑی ضرورت ہے۔اور اس کو سمجھتے ہوئے وہ یہ عہد کرے کہ میں اس روز تک دم نہیں لوں گا جب تک کہ سب میں اتفاق نہ ہو جائے تاکہ اس اتحاد سے آنحضرت کی عزت کو قائم کیا جاسکے اور میں امید کرتا ہوں جب یہ اتحاد پیدا ہو جائے گا تو پھر اس اتحاد سے دنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔الفضل ۱۷ جون ۱۹۲۷ء)