خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 137

خطبات محمود ۱۳۷ سال 1927ء مقابلہ پر اہل کتاب کو جمع ہونے کے لئے کہا ہے۔قُل يَا هُلَ الْكِتَابِ تَعَالُوا إِلى كَلِمَةٍ سَوَاء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الَّا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ ( ال عمران : ۱۵) آؤ اے اہل کتاب ایک امر مشترک پر جمع ہو جائیں اور وہ توحید ہے۔آؤ شرک کا مقابلہ کرنے کے لئے اکٹھے ہو جائیں۔اہل کتاب مسلمانوں کو کافر کہتے تھے اور مسلمان اہل کتاب کو۔ان میں اختلاف تھا۔مگر باوجود اس اختلاف کے ان کو ایک امر مشترک پر جمع ہونے کے لئے بلایا گیا۔تو جب قرآن شریف اس امر کو پیش کرتا ہے۔اور کہتا ہے کہ اختلاف تو ہے لیکن ایک بات مشترک ہے اس لئے اس امر مشترک پر اکٹھے ہو جاؤ تاکہ شرک کا مقابلہ کیا جائے۔ہم تمہیں کافر کہتے ہیں تم ہمیں کہتے ہو ہم تم پر اعتراض کرتے رہیں تم ہم پر اعتراض کرتے رہو۔مگر جو بات ہم میں اور تم میں مشترک ہے۔اس کے لئے ہمیں اکٹھے ہو جانا چاہئے۔اگر یہ کہتا کہ آؤ ہم تمہارے مذہب کے متعلق کچھ نہیں کہیں گے تو یہ قرآن کی تعلیم کے برخلاف ہے۔پس منشاء یہی ہے کہ توحید کے لئے ہم جمع ہو جائیں۔یہی تعریف میں نے پیش کی ہے کہ جن امور میں اختلاف ہے ان کو قائم رکھ کر بھی مسلمانوں کے ہر ایک فرقہ میں اتحاد ہو سکتا ہے۔اور یہ تعریف خدا نے آنحضرت نے اور قرآن نے بتائی ہے جو خدا کی کتاب ہے۔ممکن ہے بعض باتیں اہم ہوں۔لیکن جب وہ لوگ جو رسول کریم ﷺ کو اور قرآن شریف کو جھوٹا سمجھتے ہوں۔وہ اکٹھے ہو سکتے ہیں۔تو ہم کیوں نہیں ہو سکتے جو رسول کریم اے اور قرآن شریف کو سچا سمجھتے ہیں۔خدا بھی ایسا کہتا ہے اور رسول کریم سے بھی یہی کہتے ہیں کہ جو اختلاف میری نبوت کے متعلق ہے وہ رکھو۔لیکن بہر حال توحید میں تو ہم اکٹھے ہو جائیں۔تو قرآن نے بھی یہی طریق صلح کا پیش کیا ہے۔یہ نہیں کہا کہ پہلے کافر کہنا چھوڑ دو۔اور پھر اکٹھے ہو جاؤ۔بلکہ رسول کریم نے یہی فرمایا کہ بے شک وہ مجھے کافر کہیں میں ان کو کہوں۔لیکن باوجود اس کے جس امر میں اشتراک ہے ہم اس میں اکٹھے ہو جائیں تاکہ شرک مٹ جائے۔اور مشرک کوئی نہ رہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک مسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ سب مسلمان ہو جائیں۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ مشرک کوئی نہ ہو۔اس کا نام سیاسی تعریف رکھ لو۔مذہبی تعریف رکھ لو۔بہر حال یہ طریق ہے جو اسلام نے اور آنحضرت ﷺ نے پیش کیا۔جو اس کی مخالفت کرتا ہے۔وہ اس کی تردید کرتا ہے۔اگر آج مسلمان اس کو مان لیں گے۔تو وہ اختلاف کو مٹانے کے بغیر ہی اس کامیابی کو حاصل کرلیں گے لیکن اگر وہ اختلاف مٹانے کے لئے کوشش کریں گے۔تو نہ وہ کامیابی حاصل ہوگی اور نہ اختلاف ہی مٹ