خطبات محمود (جلد 11) — Page 110
خطبات محمود ۱۵ سال 1927ء جان لینے کے لئے نہیں بلکہ جان دینے کے لئے قربانی کرو فرموده ۲۰/مئی ۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جس طرح دنیا میں باقی تمام چیزیں ایک جہت سے اچھی اور ایک جہت سے بری ہوتی ہیں اسی طرح قربانی بھی ایک جہت سے اچھی اور ایک جہت سے بری ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا کی کوئی ترقی، دنیا کی کوئی کامیابی دنیا کا کوئی آرام دنیا کا کوئی سکھ قربانی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔حضرت خلیفہ اول اپنے ایک استاد کا ذکر فرمایا کرتے تھے کہ ان کا قول تھا لوگ خدا کو بیٹھے بٹھائے حاصل کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ایک نانبائی کو نہیں دیکھتے جسے ایک روٹی کے لئے تین دفعہ جہنم میں جانا پڑتا ہے۔پہلے روٹی لگانے کے لئے۔پھر اسے الٹانے کے لئے۔پھر نکالنے کے لئے۔اس طرح تین دفعہ جنم میں ایک روٹی کے لئے اسے جانا پڑتا ہے۔مگر خدا کے لئے کچھ بھی تکلیف اٹھانا پسند نہیں کرتے اور چاہتے ہیں یونسی خدا مل جائے۔مگر وہ کون سی چیز ہے جو بغیر قربانی کے ملتی ہے۔نسل انسانی کے قیام کے لئے خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ بچے پیدا ہوں۔اور اس وجہ سے خدا نے بچے ماں باپ کے لئے محبوب بنادیے ہیں۔لیکن ذرا غور کرو بچے کے پیدا کرنے کے لئے کتنی قربانی کرنی پڑتی ہے۔اس کے لئے باپ کو بھی قربانی کرنی پڑتی ہے۔لیکن اس وقت میں اس کی تشریحات میں نہیں جانا چاہتا۔ماں کی قربانی ظاہر ہی ہے۔ماں کے لئے بچہ جنا موت کے مسادی ہے۔ہر عورت جس نے کوئی بچہ جنا۔جب اس کے بچہ جننے کے دن قریب آتے ہیں۔تو وہ عورت کہتی ہے معلوم نہیں بچتی ہوں یا نہیں۔اور فی الواقع وہ حالت ایسی خطرناک ہوتی ہے۔اور تکلیف اتنی زیادہ ہوتی ہے۔اور اس کی ہمیت اس طرح قلب پر طاری ہوتی ہے کہ کسی عورت کی زندگی کا یقین تو الگ رہا۔خیال بھی نہیں کیا جا سکتا کہ زندہ رہے گی۔واقعہ میں اس وقت موت کے دروازہ تک پہنچ کر عورت واپس آتی ہے۔