خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 97

خطبات محمود ۹۷ سال 1927ء ہے۔خُذُوا حِذْرَكُمُ اپنی حفاظت کا سامان ضرور رکھنا چاہئے۔جب دشمن حملہ کر رہا ہے۔اور متواتر کر رہا ہے تو مسلمانوں کے لئے مشکل کیا ہے کہ چند پیسوں کا بھی نہیں بلکہ کلہا ڑا لے کر خود درخت سے شاخ کاٹ کر ڈنڈا بنالیں۔جسے ہر وقت اپنے پاس رکھیں حتی کہ نمازوں کے لئے جائیں تو بھی ان کے پاس ہو۔جب نماز کے وقت تلواریں اور بندوقیں لے جانی جائز ہیں تو ڈنڈا کیوں منع ہو گا۔پس ہر مسلمان کے پاس ڈنڈا ہونا چاہئے۔تاکہ اگر دشمن حملہ کرے تو وہ اپنی حفاظت کر سکے۔اپنی عورتوں کی حفاظت کر سکے۔اپنے اموال کی حفاظت کر سکے۔لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ مسلمان کو ظالم نہیں بننا چاہئے کسی نفتے کو مارنا۔یا راستہ چلتے کو اس لئے مارنا کہ وہ دشمن کی قوم کا ہے سخت ہے۔جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہئے اور ہمیشہ انصاف پر قائم رہنا چاہئے۔خواہ دشمن کتنے ہی ظلم اور تعدی پر اتر آئے۔یہی اسلام کی تعلیم ہے۔اور اسی پر قائم رہ کے مسلمان غالب ہو سکتے ہیں۔اور یہی غلبہ ان کو فائدہ دے سکتا ہے۔ورنہ اگر اسلام چھوٹ گیا تو پھر غلبہ اور فتح کس کام کی۔ظالم جب ظلم کرتا ہے۔تو اس کا ہاتھ روکو اور ہمت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرو۔میرے نزدیک تو ان مسلمانوں نے غلطی کی جو ہندوؤں اور سکھوں کے حملہ کے وقت بھاگ گئے۔خواہ وہ سنتے ہی تھے۔مگر بھاگے کیوں ؟ وہ ایسی حالت میں بھی دشمن کا مقابلہ کر کے اسے بتا دیتے کہ مسلمان بھاگنے کے لئے نہیں پیدا کئے گئے۔اس طرح وہ ظالموں کو بانسانی پکڑو ابھی سکتے تھے۔مگر ایسی حالت کے بعد کسی ہندو یا سکھ کو مارنا ظلم ہے۔جو خواہ کوئی مسلمان کرے یا احمدی کرے یا کوئی قریبی رشتہ دار کرے یا بھائی کرے۔میرے نزدیک ظلم ہی ہے۔جس سے مسلمانوں کو اپنے ہاتھ پاک رکھنے چاہئیں۔کسی بے گناہ اور بے قصور پر حملہ کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔اور اتنا بڑا ظلم ہے جس سے آسمان کانپ جاتا ہے انسانی جان کو خدا تعالیٰ نے اس قدر عزت دی ہے کہ اس پر عرش کا قیام رکھا ہے۔اور جو شخص کسی بے گناہ کی جان لیتا ہے۔خواہ اس بے گناہ کی قوم کتنی ہی ظالم ہو۔خدا تعالی کا عرش کانپ جاتا ہے۔جب تک انسانی زندگی کی قدر قائم نہ ہو۔اس وقت تک نہ امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ کوئی تہذیب قائم ہو سکتی ہے۔پس مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ خون اور قتل کے تمام دروازے بند کر دیں۔ہاں اس قتل کو کام میں لائیں جو نفس کا قتل ہے باطل عقائد کا قتل ہے۔جھوٹ شرارت ، فتنہ و فساد کا قتل ہے۔اگر دشمن حملہ کرتا ہے تو تم اپنے پاس ہتھیار رکھو۔تا اس کا مقابلہ کر سکو مگر اپنے جوش کو بے فائدہ ضائع مت کرو۔اسے دباؤ تاکہ دوسرے مواقع پر تمہارے کام آسکے۔میں اس وقت اپنی جماعت کے لوگوں سے کہتا ہوں۔ان کا فرض ہے کہ مسلمانوں کو بچانے اور