خطبات محمود (جلد 11) — Page 4
خطبات محمود سال 1927ء سے ہم نے فائدہ اٹھانا تھا وہ تو ہم کھو بیٹھے ہیں۔اب باقی حصہ سے ہی ہم فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔اس ہفتہ کے دوران میں نیا سال شروع ہو گیا ہے۔اس لئے اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پچھلے وقت سے ہم نے کیا فائدہ اٹھایا ہے۔اور آئندہ وقت سے ہمیں کیا فائدہ اٹھانا چاہئے۔میں اس وقت ایک تاریخی واقعہ کی طرف توجہ دلا کر فرائض کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔آج سے ۱۳۰۰ سال پہلے ایک جماعت قائم کی گئی تھی جو آخری جماعت تھی اور ایسے نبی کے ذریعے قائم ہوئی جو آخری نبی تھا۔یعنی تمام شرائع اس پر ختم ہو گئی تھیں وہ کمالات نبوت کا خاتمہ اور کمالات انسانی کا آخری نقطہ تھا۔نہ تو نبوت اپنے مقام میں اس سے آگے نکل سکتی ہے اور نہ کوئی انسان کسی کمال میں اس سے آگے بڑھ سکتا ہے۔وہ تمام کمالات میں سب سے آگے نکل جانے کی وجہ سے آخری نبی کہلایا۔اور نہ صرف وہ اس وقت آخری نبی تھا بلکہ اس کے لئے اللہ تعالٰی نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ وہ ہمیشہ کے لئے آخری نبی ہو گا۔اور چونکہ وہ ہر آن ترقی کر رہا ہے اس لئے وہ کسی کے لئے روک نہیں بنا۔نادانوں نے ناواقفی کی وجہ سے خیال کر لیا کہ وہ آئندہ کی ترقیات کے لئے روک بنا ہے۔حالانکہ جب وہ کسی جگہ پر کھڑا ہی نہیں ہوا تو روک کیونکر بنا۔روک تو وہ شخص ہوا کرتا ہے جو ایک جگہ پر کھڑا رہے۔کیا تیز رفتار شخص بھی روک بنا کرتا ہے؟ پس اس نبی کو تو اللہ تعالٰی نے ایسا رتبہ عطا کیا کہ وہ ہمیشہ ہر آن آگے ہی آگے چلا جارہا ہے اور اس قدر تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ کوئی انسان اس سے آگے نہیں نکل سکتا۔ایسے نبی کے ذریعہ سے ایک جماعت دنیا میں قائم ہوئی۔اس جماعت میں تفرقہ پیدا ہوا اور فساد شروع ہوا۔گو اس فساد کے بانی مبانی بعد میں آنے والے لوگ تھے۔لیکن اس میں صحابہ کا بھی دخل تھا اور وہ دخل کسی فساد کی بناء پر نہیں تھا۔کسی عناد کی نیت پر مبنی نہیں تھا۔بلکہ اسلام کی خدمت اور حفاظت کے لئے تھا۔اس تفرقہ میں ایک طرف حضرت علی تھے اور دوسری طرف حضرت طلحہ اور زبیر اور حضرت عائشہ تھے۔ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ ہم فساد اور تفرقہ کو مٹادیں اور اسلام کی حفاظت کریں۔چنانچہ ایک دفعہ ایک جگہ یہ دونوں لشکر ملے تو حضرت علی نے حضرت طلحہ و زبیر کو یا د ولایا کہ رسول اللہ اللہ نے آپ لوگوں کو فرمایا تھا کہ تمہار ا فلاں موقع پر کھڑا ہونا بہت برا ہو گا۔جب حضرت طلحہ اور زبیر" کو بھی رسول کریم کا یہ فرمان یاد آیا تو اسی وقت وہ میدان سے ہٹ گئے اور جنگ کا ارادہ چھوڑ دیا یہ اب دیکھو ایک زبر دست لشکر کی کمان کرتے ہوئے رسول اللہ کے ایک فرمان یاد