خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 529

خطبات محمود ۵۲۹ ۶۹ سال ۱۹۲۸ء چندہ سالانہ جلسہ کے لئے دوبارہ تحریک فرموده ۳۰/ نومبر ۱۹۲۸ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: کو پچھلے جمعہ کے خطبہ میں جلسہ کے متعلق میں بعض باتیں بیان کر چکا ہوں لیکن آج جب کہ میں نماز جمعہ کے لئے آنے کی تیاری کر رہا تھا ایک دوست نے کہا کہ میں پھر چندہ کے متعلق تحریک کروں۔گو میں اس عقیدہ کا آدمی ہوں کہ اسی کام میں برکت ہوتی ہے جس کی تحریک انسان کے اپنے نفس سے پیدا ہوتی ہے اور ایک مؤمن کے لئے اس کا قلب ہی اس کے فرائض یاد دلانے کے لئے کافی ہوتا ہے۔دوسرے کی طرف سے اشارہ ہی ہوتا ہے اسے بار بار کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور جو لوگ اپنی ذمہ داری کو خود نہ سوچیں اور محسوس نہ کریں ان کو بار بار کہنا چنداں مفید نہیں ہوتا پھر اس طرح کہنے کا جو نتیجہ نکلے وہ بھی ایسا با برکت نہیں ہوتا۔بار بار کہنے کی ضرورت کمزوروں کے لئے ہوتی ہے یا اس خیال سے ہو سکتی ہے کہ شاید بعض لوگوں تک ابھی آواز نہ پہنچ سکی ہو۔چونکہ ہماری جماعت وسیع ہو رہی ہے اور پہلے کی نسبت بہت وسیع ہو چکی ہے اس لئے ایک تحریک کا ایک ہی دفعہ سب تک پہنچ جانا نا ممکن ہو تا ہے اس وجہ سے ضرورت پیش آتی ہے کہ متواتر کی جائے تا بار بار لوگوں کی نظروں سے گذرے اور ان کے ذریعہ سے دوسروں تک پہنچے۔گو جماعت کی وسعت اس حد تک ہو چکی ہے کہ اس طرح بھی ہم سب کو نہیں پہنچا سکتے۔کئی ایسے ملک ہیں کہ وہاں احمدی موجود ہیں مگر ہم ان کی زبانیں بھی نہیں جانتے سلسلہ کا لڑیچر کسی خدا کے بندہ کے ذریعہ ان تک پہنچا اور انہوں نے قبول کر لیا۔مگر ہمارے پاس اپنے حالات ان تک پہنچانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔بهر حال اگر آواز بار بار اٹھائی جائے تو جن لوگوں تک اس کا پہنچنا ممکن ہو سکتا ہے ان تک پہنچ