خطبات محمود (جلد 11) — Page 502
۵۰۲ سال ۱۹۲۸ء أشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُم کے مصداق بنو فرموده ۲/ نومبر ۱۹۲۸ء) تشهد، تعوز اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے مومنوں کی ایک صفت بیان فرمائی ہے۔اس صفت پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عمل کیا اور ایسا عمل کیا کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔لیکن تعجب آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ کے بعد مسلمانوں سے وہ صفت بالکل اُڑ گئی اور میں سمجھتا ہوں کہ ابھی تک وہ ہماری جماعت میں بھی پوری طرح قائم نہیں ہوئی۔بعض صفات ایسی ہوتی ہیں جو قدر تا ہر نیک آدمی میں پائی جاتی ہیں اور ان میں کسی خاص قوم یا مذ ہب سے تعلق رکھنے والوں کی خصوصیت نہیں ہوتی۔وہ بھی بے شک اپنی ذات میں اچھی ہوتی ہیں اور ان کے حصول کے لئے بھی کوشش کرنا ضروری ہوتا ہے۔لیکن یہ صفت جس کا میں ذکر کر رہا ہوں اس متعلق تقریباً تمام الہامی کتب میں پیشگوئیاں موجود ہیں اور قرآن کریم نے بھی اس کو بطور پیشگوئی کے ہی ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ماننے والے اس قسم کی خصوصیات اپنے اندر رکھتے ہوں گے۔اور وہ صفت یہ ہے کہ آپ کے ماننے والے اشداء عَلَى الكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمُ (الفتح ۳۰) پر عمل کرنے والے ہوں گے۔یعنی وہ لوگ رسول کریم ال کو نہ ماننے والوں کے مقابلہ میں تو بہت سخت ہوں گے لیکن جو مانے والے ہوں گے ان کے ساتھ ان کا معاملہ بہت ہی رحم کا ہو گا۔یعنی ایک طرف تو وہ غیرت میں اس قدر بڑھے ہوئے ہوں گے کہ دین کے خلاف سننا برداشت ہی نہیں کر سکیں گے اور دوسری طرف محبت میں اتنا بڑھے ہوئے ہوں گے کہ اپنے بھائیوں کا کوئی قصور انہیں نظر ہی نہیں آئے گا۔