خطبات محمود (جلد 11) — Page 486
خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء احکام پر ہو اسی وجہ سے بعض دنیاوی معاملات میں ہمیں دخل دینا پڑتا ہے۔کئی نادان یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمیں دنیا سے کیا تعلق ہے ہم تو ایک مذہبی جماعت ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ بے شک ہماری تمام توجہ دین کی اشاعت کی طرف ہی ہے لیکن دین کی اشاعت دنیا کے امن سے وابستہ ہے پس دنیا میں امن کے قیام کے لئے دنیاوی اصلاح کے لئے کچھ وقت ہمیں ضرور صرف کرنا چاہئے۔اسلام نے دنیوی حکومتوں کے قوانین بیان کئے ہیں۔اگر یہی قاعدہ ہو تاکہ دین اور دنیا کو آپس میں کوئی تعلق نہیں تو حکومت کے متعلق قرآن پاک میں کوئی احکام نہ ہوتے۔لیکن حالت یہ ہے کہ اس میں ایسے ایسے لطیف امور دنیادی حکومتوں کے متعلق بیان ہیں کہ دنیا کے بہترین اور عقلمند ان کی برتری کا اعتراف کرتے ہیں۔اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ دین اور دنیا کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔میں پچھلے سال شملہ گیا تو وہاں سابق گورنر صاحب پنجاب نے مجھے بلوایا اور یہ سوال کیا کہ میں ایک مذہبی آدمی ہوں مجھے دنیاوی امور میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ان کا مطلب یہ تھا کہ میں نے تمدنی تحریکات کیوں کیں۔میں نے انھیں بتایا یہ بھی میرا ہی کام ہے کہ میں فیصلہ کروں کونسا کام دنیوی ہے اور کونسا دینی۔گورنر صاحب کا یہ کام نہیں کہ مجھے بتائیں تمہاری فلاں تحریک دینی ہے اور فلاں دنیا دی۔وہ خود اپنے متعلق فیصلہ کر سکتے ہیں جگر میں اپنے متعلق خود ہی فیصلہ کروں گا۔میں جس چیز کے متعلق سمجھوں گا کہ اس کا اثر مذہب پر پڑے گا تو اس میں ضرور دخل دوں گا۔غرض دین کے فائدہ کے لئے بعض دنیوی امور میں دخل دینا ضروری ہوتا ہے۔پچھلے سال میں نے بعض تحریکات میں حصہ لیا تھا اور ان کے متعلق تفصیلا ان کے اختیار کرنے کی وجوہات بھی بیان کی تھیں۔معلوم ہوتا ہے گورنر صاحب کو ان سے واقفیت نہ تھی ورنہ وہ ایسا سوال نہ کرتے۔اب پھر ایک موقع پیدا ہو گیا ہے جس کا اسلام کی ترقی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔اور وہ آئندہ حکومت ہند کا سوال ہے۔سائمن کمیشن پھر ہندوستان آرہا ہے اور اس نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہندوستان کی آئندہ حکومت کی کیا شکل ہوگی۔اس موقع پر کانگریسی کمیٹی نے اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے بعض دوسرے لوگوں نے ایک کمیٹی بنائی جس کے صدر اور شاید سیکرٹری بھی پنڈت موتی لال صاحب نہرو تھے اور انہی کے نام کی نسبت سے اس کمیٹی کا نام نہرو کمیٹی ہوا۔اس کمیٹی نے ایک رپورٹ تیار کی ہے اور اس میں ایسی تجاویز پیش کی ہیں جن پر آئندہ حکومت کی بنیاد رکھنے کی صلاح دی ہے۔اس میں مسلمانوں کی طرف سے سر