خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 442

خطبات محمود ۴۴۲ سال ۱۹۲۸ء سکتا۔اس بات کو انہوں نے بھی تسلیم کیا تھا۔دوسری صورت میں نے یہ بتائی کہ ایک اتحاد جزوی ہوتا ہے۔اس میں ساری طاقت اور قوت کو ایک جگہ نہیں صرف کیا جاتا۔فریقین الگ الگ بھی رہتے ہیں اور مشترک مقاصد میں متحد بھی ہو جاتے ہیں۔مخصوص عقائد کے لئے علیحدہ انتظام ہوتا ہے لیکن جن امور میں اتحاد ہوتا ہے ان میں مل جاتے ہیں اس کے متعلق میں نے کہا تھا کہ پہلا کام یہ ہونا چاہئے کہ سخت کلامی کو چھوڑ دیا جائے اور جب یہ چھٹ جائے اور باہم ملنا جلنا شروع ہو جائے تو پھر متحدہ امور میں ملنے کے لئے طبائع راغب ہو سکتی ہیں۔گو سید عبد الجبار شاہ صاحب کا جوش طبیعت اس سے زیادہ چاہتا تھا لیکن مجھ سے گفتگو کرنے کے بعد وہ آمادہ ہو گئے کہ اس بات کو دوسرے فریق کے سامنے پیش کریں۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں دوسری دفعہ کی ملاقات کے نتیجہ میں یہ بات ہوئی۔شاید ۱۹۲۴ء تھا جب اس غرض کے لئے وہ تشریف لائے۔یہاں سے جانے کے بعد انہوں نے مجھے خط لکھا کہ میں نے لاہور یہ تحریک کی تھی۔مولوی محمد علی صاحب تو اس پر راضی نظر آتے تھے لیکن کچھ اور آدمی (جن کے انہوں نے نام لکھے تھے مگر ان کے نام لینے کی میں اس وقت ضرورت نہیں سمجھتا۔) انہوں نے روک ڈال دی اور بات بیچ ہی میں رہ گئی میں پھر کوشش کروں گا۔اس کے بعد ۱۹۲۶ء میں مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری اور خان صاحب دلاور خان صاحب اسٹنٹ کمشنر نوشہرہ دونوں صاحب ڈلہوزی تشریف لائے اور انہوں نے یہ سوال اٹھایا۔میں نے یہی امور جو پہلے بیان کر چکا ہوں ان کے سامنے بیان کئے۔انہوں نے بغیر کسی قسم کے اختلاف کے ان سے اتفاق ظاہر کیا اور مولوی غلام حسن خاں صاحب نے کہا میں سمجھتا ہوں اب صلح ہو جائے گی غالبا انہوں نے ہی یہ بھی کہا کہ میں مولوی محمد علی صاحب کے پاس جاتا ہوں اور ان سے بات کر کے آتا ہوں۔چنانچہ وہ گئے اور مولوی محمد علی صاحب سے جو ان دنوں ڈلہوزی میں ہی تھے ملے۔اور پھر آکر کہا میں نے مولوی صاحب سے گفتگو کی ہے انہوں نے اس بات کو پسند کیا ہے۔اس پر میں نے ایک اعلان لکھ دیا جس میں لکھا چونکہ کسی فریق کے حد سے بڑھ جانے پر بعض دفعہ الزامی جواب کی ضرورت بھی پیش آتی ہے اس لئے میں سر دست اس اعلان کو تین ماہ کی مدت سے مشروط کرتا ہوں اس تین ماہ کے عرصہ میں تو خواہ کوئی حالات بھی پیش آئیں اور الزامی جواب نہ دینے سے نقصان بھی ہو تب بھی اس اعلان کو قائم رکھا جائے گا