خطبات محمود (جلد 11) — Page 441
خطبات محمود امم سال ۱۹۲۸ء ۵ مولوی محمد علی صاحب کا چیلنج منظور (فرموده ۱۰/ اگست ۱۹۲۸ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دو سال کے قریب ہوئے کہ میں ڈلہوزی گیا تھا۔وہاں مولوی غلام حسن خان پشاوری اور خان دلاور خان صاحب اسٹنٹ کمشنر کہ وہ بھی سرحد کے ایک گاؤں کے رہنے والے ہیں ایک مبائع دوست کے ساتھ جن کا نام قاضی محمد شفیق صاحب ہے اور جو چار سدہ میں وکالت کرتے ہیں تشریف لائے۔ان دونوں صاحبان نے اپنی آمد کا مقصد یہ بیان کیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے دونوں فریق میں جو کشمکش جاری ہے جس حد تک بھی ہو سکے بند کر دی جائے۔گو اس وقت یہ دونوں صاحب تشریف لائے لیکن ایک اور تیرے صاحب جن کا نام سید عبد الجبار شاہ صاحب ہے اور سابق بادشاہ سوات ہیں وہ بھی دو تین بار اس بارے میں قادیان آکر مجھ سے ملے تھے اور پوچھا تھا کہ کیا کوئی ایسی صورت ہو سکتی ہے کہ آپس میں اتفاق قائم ہو جائے۔یہ صاحب اس تحریک میں سب سے پہلے حصہ لینے والے ہیں یعنی ان تینوں میں سے پہلے ہیں۔ممکن ہے کوئی اور صاحب بھی یہ تحریک کرتے رہے ہوں لیکن ان تینوں میں سے پہلے سید عبد الجبار شاہ صاحب نے تحریک کی۔اور میں خیال کرتا ہوں کہ سات آٹھ سال سے وہ یہ تحریک کرتے رہے۔دو دفعہ تو وہ اس غرض کے لئے قادیان آئے اور ایک دفعہ باہر ملے اور گفتگو کی ممکن ہے اس سے زیادہ دفعہ بھی باتیں ہوئی ہوں۔میں نے سید عبد الجبار شاہ صاحب سے اس بارے میں کہا تھا کہ صلح کے دو طریق ہو سکتے ہیں۔ایک یہ کہ سارے معاملات میں متحد ہو جانا یہ اتحاد عقائد کے کلی فیصلہ کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔جب دینی امور میں اختلاف ہو تو بغیر اس کے کہ عقائد میں اتحاد ہو جائے اتحاد کلی نہیں ہو