خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 437

خطبات محمود سال ۶۱۹۲۸ قبولیت کا رنگ نہیں ہوتا وہ خدا کی بتلائی ہوئی دعا ئیں نہیں کرتے بلکہ اپنی عقل سے بنائی ہوئی کرتے ہیں۔مگر پھر بھی ان میں اپنے مذہب کا ادب اور احترام پایا جاتا ہے۔اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ مذہبی باتوں پر ٹھٹھا کرتے ہیں اور ان پر عمل کرنے والوں کو حقیر سمجھتے ہیں۔یہودی مذہب کی حقیقت سے کس قدر دور ہو چکے ہیں لیکن باوجود اس کے میں نے ان کو دیکھا ہے دعائیں کرتے وقت عملاً ان کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔آج تک جب کبھی مجھے وہ نظارہ یاد آجاتا ہے تو میرا دل بے چین ہو جاتا ہے۔میں نے یہودیوں کی اپنی مذہب سے جو تڑپ دیکھی وہ بہت ہی درد انگیز تھی۔یروشلم میں ایک مسجد ہے۔وہ مقام یہودیوں کے لئے ایسا ہی متبرک ہے جیسا ہمارے لئے خانہ کعبہ۔مسلمانوں کے زمانہ میں جب پیر و معلم فتح ہوا تو عیسائیوں نے چاہا کہ حضرت عمر اے اس مقام کے اندر آکر نماز پڑھیں مگر آپ نے فرمایا میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے اندر نماز پڑھی تو مسلمان اس جگہ کو اپنی عبادت گاہ بنالیں گے اور آپ نے با ہر نماز پڑھی۔۳۔وہ مقام یہودیوں سے رومیوں نے چھین لیا تھا اور پھر ان سے عیسائیوں کے قبضہ میں آیا تھا اب اس مقام کو یہودیوں کے ہاتھ سے نکلے اٹھارہ سو سال کے قریب ہو چکے ہیں لیکن آج تک ہر جمعہ کے دن وہ لوگ اس مسجد کے پاس جاتے اور اس کی دیوار کو پکڑ کر چیچنیں مار مار کر روتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں کہ خدایا یہ مسجد ہمارے حصہ میں آجائے۔میں سمجھتا ہوں یہ میری خوش قسمتی تھی کہ ان دنوں میں جن میں وہاں میں گھبرا جمعہ کا بھٹی دن تھا اور مجھے وہ نظارہ دیکھنے کا موقع ملا۔میں نے جا کر دیکھا کہ بچے بوڑھے عورتیں اور مرد بلک بلک کر رو رہے تھے اور دعائیں کر رہے تھے۔میں اس کیفیت کو نہیں بھول سکتا کہ ایک اٹھارہ سالہ لڑکی دونوں ہاتھوں سے دیوار کے ساتھ چمٹ کر اور زبان اس کے ساتھ لگا لگا کر اس بے تابی اور اضطراب کے ساتھ رو رہی تھی کہ خیال ہو تا تھا اسے ہسٹیریا کا دورہ پڑا ہوا ہے اور اس وجہ سے اسے سر پیر کی ہوش نہیں ہے۔اسی طرح میں نے ایک بڑھے کو دیکھا جس کی عمر نوے سال کے قریب ہوگی اس کی کمر ٹیڑھی ہو چکی تھی وہ کمزوری کی وجہ سے کھڑا نہ ہو سکتا تھا اس کی داڑھی ناف تک لمبی تھی وہ بے اختیار ہو ہو کر اس طرح گرا پڑتا تھا کہ گویا ابھی اس کا اکلوتا بیٹا مرا ہے اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے اس کے ہاتھ لٹکے ہوئے تھے اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے اس کا تمام