خطبات محمود (جلد 11) — Page 432
محمود سال ۶۱۹۲۸ کی محبت کا جنون تھا۔یہ ایک غیر کی گواہی ہے اور اس شخص کی گواہی ہے جس نے قرآن کریم کو اس نظر سے دیکھا کہ اس کی قوم کے لوگ قرآن کو جھوٹا کہتے تھے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ قرآن بھی کہتا ہے۔اُدْعُوا إِلى الله اور ایک غیر شخص جس میں تعصب نہ تھا وہ بھی یہی کہتا ہے کہ اگر بانی اسلام کو کوئی جنون تھا تو وہ خدا کی محبت کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔تو فرمایا یہ رستہ ہے جس کی طرف میں بلاتا ہوں اور وہ خدا کی طرف جانے کا رستہ ہے۔اب قرآن کریم کے اس مضمون اور دوسری مذہبی کتب کے مضمون کو دیکھو کتنا بڑا فرق نظر آتا ہے۔رسول کریم ﷺ قرآن کریم شروع کرتے ہیں تو بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ سے اور ختم کرتے ہیں۔تو قُل اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ الهِ النَّاسِ مِنْ شَرِ الوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ یعنی خدا تعالی کا نام لے کر شروع کرتے ہیں خدا ہی کے سپرد کر کے ختم کرتے ہیں۔مگر انجیل کو دیکھو کس طرح شروع ہوتی ہے۔فلاں سے فلاں پیدا ہوا اور فلاں سے فلاں۔اس کا خدا تعالیٰ سے ملنے اور اس کا قرب حاصل کرنے سے کیا تعلق ؟ اور پھر ختم ہوتی ہے تو اس طرح کہ حضرت مسیح نهایت مایوسی اور بے قراری کی حالت میں صلیب پر لٹکائے جاتے اور بالفاظ انجیل مار ڈالے جاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ انجیل نے اپنے اول اور آخر جو کچھ پیش کیا ہے وہ قرآن کریم کے مقابلہ میں بہت ادنی ہے۔قرآن کریم اللہ تعالٰی کے نام سے شروع ہوتا ہے اور اللہ ہی کے نام پر ختم ہوتا ہے۔گویا اللہ ہی کے نام سے برکت حاصل کر کے شروع کیا جاتا ہے اور اللہ ہی کے سپرد کر کے ختم کیا جاتا ہے۔قُل اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ کی سورتوں کا خلاصہ کیا ہے صرف یہ کہ سپردم بتو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش را میں نے تیرا نام لے کر کام شروع کیا تھا اور نیت یہی تھی کہ تجھے ہر بات میں مقدم رکھوں اور تیرے لئے اپنے آپ کو مٹا دوں اس نیت کے ساتھ میرا کام ختم ہوتا ہے۔مگر میں یہ مانتا ہوں کہ مجھ سے غلطیاں ہو ئیں کو تاہیاں ہو ئیں اس لئے اپنی جان تیرے سپرد کرتا ہوں۔اب جو تو چاہے وہ کر۔