خطبات محمود (جلد 11) — Page 405
خطبات محمود ۴۰۵ سال ۲۱۹۲۸ دیجئے۔آخر سوچ سوچ کر کہنے لگے میرا مذ ہب ہے علیہ۔میں نے کہا میاں عبد الوہاب صاحب علیہ کیا چیز ہوتی ہے۔سوچ سوچ کر کہنے لگے میرا مذ ہب ہے اعظم علیہ اس سے ان کی مراد امام اعظم علیہ الرحمہ تھی۔یہ ان کی مذہبی واقفیت تھی جو حج کے لئے گئے تھے۔بات یہ ہے کہ جب کوئی قوم دلائل کو چھوڑ دیتی ہے اور مذہب کو ورثہ کا مذہب بنا لیتی ہے تو پھر وہ تنزل اور تباہی کی طرف چلی جاتی ہے کیونکہ جب لوگ دلیل پر غور نہیں کرتے تو ان کے ذہن کند ہو جاتے ہیں پھر ان کی اولاد کے ذہن ان سے زیادہ کند ہوتے ہیں آگے ان کی اولاد کے ان سے زیادہ کند حتی کہ حیوانوں اور ان میں کوئی فرق نہیں رہتا لیکن جو لوگ دلائل پر غور کرتے ہیں ان کے ذہن ترقی کرتے جاتے ہیں۔صحابہ کرام کو ہم دیکھتے ہیں بالکل ان پڑھ تھے لیکن جب کسی سے گفتگو کرتے تو ایسے دلائل دیتے کہ کوئی ان کا مقابلہ نہ کر سکتا۔وہ جو اُمی اور ان پڑھ تھے وہ چونکہ دلائل سے واقف تھے اس لئے اسلام کی حقیقی تعلیم کے پابند تھے مگر آج جب کہ تعلیم موجود ہے اور لوگ بہت زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اسلام سے کچھ واقفیت نہیں۔آج کل لوگ اپنی قوم کی جہالت کا ذکر منبروں پر کھڑے ہو کر کریں گے اور اس بات کا رونا روئیں گے کہ مسلمان تعلیم کی طرف توجہ نہیں کرتے مگر علم دین میں وہ بھی ایسے ہی جاہل ہوں گے جیسے دو سرے نہ کبھی انہوں نے قرآن کو ہاتھ لگایا نہ دوسروں نے۔اور جب قرآن کو کبھی انہوں نے دیکھا ہی نہیں تو دینی علم سے وہ کس طرح واقف ہو سکتے ہیں۔بے شک قرآن میں بڑے زبر دست دلائل ہیں لیکن جب تک کوئی اسے دیکھے نہ اس پر غور کرے اسے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔اگر کسی کے پاس بہتر سے بہتر دوائی ہو مگر وہ اسے استعمال نہ کرے تو کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ملیریا کے لئے کو نین بہت حد تک مفید ہوتی ہے لیکن اگر کوئی کو تین کھائے ہی نہ تو ا سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔اس طرح کسی کے پاس پانی کی بوتل موجود ہو مگر وہ اسے استعمال نہ کرے تو ضرور جنگل میں پیاسا مر جائے گا۔اسی طرح قرآن موجود ہے اس میں دلائل اور براہین موجود ہیں مگر جہ مسلمان اس پر غور ہی نہیں کرتے تو انہیں کیا فائدہ ہو سکتا ہے وہ تو دوسروں کی نسبت زیادہ مجرم ہیں۔اگر ایک ایسا شخص نگا پھرتا ہے جسکے پاس کوئی کپڑا نہیں تو وہ بھی مجرم ہے اسے چاہئے ایسی حالت میں لوگوں کے سامنے نہ پھرے جب تک کپڑا حاصل کر کے نہ پہن لے لیکن اگر ایک شخص کندھے پر کپڑا ڈال کر نگا پھرے تو اس کا جرم بہت بڑا ہو گا۔اسی طرح ایک ایسا شخص جس کے پاس کھانا موجود ہو اور پھر وہ نہ کھائے اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔پس وہ لوگ جن کے