خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 384

خطبات محمود ۳۸۴ سال ۱۹۲۸ء کی مالیت کے کڑے ہی تھے ایک چور نے وہ اتار لئے۔عورت نے اگر چہ کوشش کی کہ چور کا مقابلہ کرے مگر کڑے نہ بچا سکی البتہ اس نے چور کی شکل پہچان لی۔اس وقت رواج تھا کہ عورتیں خواہ امیر ہوں یا غریب اپنے مکان کے پاس گلی میں بیٹھ کر چرخہ کاتی تھیں اور اس طرح اپنے استعمال کے لئے کپڑا تیار کرتی تھیں۔اب یہ رواج عموماً متروک ہو گیا ہے کیونکہ اس سے زیادہ مفید کام نکل آئے ہیں۔وہ عورت گلی میں بیٹھی چرخہ کات رہی تھی کہ چور ادھر سے گذرا۔عورت نے اسے پہچان لیا۔چور اسے دیکھ کر بھاگنے لگا تو اس نے کہا کہ میں تمہیں پکڑنے والی نہیں بلکہ ایک بات کہنا چاہتی ہوں تم میری بات سن لو۔جب وہ قریب آیا تو اس نے کہا تو میرے ہزار کے کڑے لے گیا تھا اور مجھے کنگال کر گیا تھا مگر تیرے پاس اب بھی وہی لنگوئی ہے جو پہلے تھی اور میرے پاس پھر ویسے ہی کڑے موجود ہیں۔غرض چوروں اور ڈاکوؤں کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کبھی وہ خوشحال نہیں ہوتے۔در اصل جو دو سروں کا مال لیتا ہے اور جسے اپنی جان کا خطرہ ہوتا ہے وہ جان بچانے کے لئے اسے خرچ کرتا ہے اور یوں بھی ضائع کر دیتا ہے۔اگر وہ محنت کر کے کماتا تو اپنی جان کے آرام کے لئے خرچ کرتا لیکن جب چوری کرتا ہے تو جان بچانے کے لئے اسے خرچ کرنا پڑتا ہے۔پس بے شک اللہ تعالیٰ چور کو سزا دینے کے لئے چوری نہیں کرتا مگر چور پر ایسے اسباب مسلط کر دیتا ہے کہ اس کا مال اسی طرح اس کے ہاتھ سے چلا جاتا ہے جس طرح دوسروں کا مال چوری کے ذریعہ وہ لے جاتا ہے۔سورۃ فاتحہ میں خدا تعالیٰ نے جو وَلَا الضَّالِّينَ فرمایا ہے یہ ایسے ہی نتائج کے لئے فرمایا ہے۔یہود میں غصہ زیادہ تھا کیونکہ ان کو تعلیم دی گئی تھی کہ " تیری آنکھ مروت نہ کرے۔کہ جان کا بدلہ جان۔آنکھ کا بدلہ آنکھ۔دانت کا بدلہ دانت ہاتھ کا بدلہ ہاتھ اور پاؤں کا بدلہ پاؤں ہو گا"۔اور کہا گیا تھا۔عضو توڑنے کے بدلے عضو توڑنا۔آنکھ کے بدلے آنکھ۔دانت کے بدلے دانت جیسا کوئی کسی کا نقصان کرے اس سے ویسا ہی کیا جائے"۔اس میں چونکہ یہود بہت بڑھ گئے تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کا نام مغضوب رکھا۔مطلب یہ کہ جس طرح تم دوسروں پر غضب کرتے ہو اسی طرح تم پر بھی غضب ہی غضب