خطبات محمود (جلد 11) — Page 378
خطبات محمود ۳۷۸ سال ۴۱۹۲۸ گی۔باقی جو رہیں گے ان کے اخلاص کی قدر کی جائے گی اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہہ دیا جائے گا وہ جو کام کرنا چاہیں کریں۔پھر بعض ایسے ہوں گے جن کی گو اس وقت ضرورت نہ ہو گی مگر ان کو آئندہ ضرورت کے لئے ریزرو رکھ لیا جائے گا اور جب ضرورت ہو گی ان کو بلا ئیں گے۔پس ان نوجوانوں کو جو کالجوں میں پڑھتے ہیں یا تعلیم سے فارغ ہو چکے ہیں اس اعلان کے ذریعہ مطلع کیا جاتا ہے کہ ہمیں ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے۔امید ہے کہ ہمارے انگریزی خواں نوجوان جو کسی موقع پر کسی سے کم نہیں رہے وہ اس وقت بھی دین کی خدمت کے لئے آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے۔وہ لوگ جو عمر رسیدہ ہیں یا اور کام کر رہے ہیں ان کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص جو ایک کام کر رہا ہو اسے دوسرے کام پر لگا دیا جائے۔ایسے لوگ اپنے آپ کو اس طرح وقف کر سکتے ہیں کہ پنشن کے بعد دین کی خدمت کرنے کا ارادہ کر لیں۔مگر افسوس ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت کے لوگوں کو اس طرف توجہ نہیں ہے۔بہت لوگ کہتے ہیں فلاں کو بڑھاپے میں اللہ اللہ کرنے کی سوجھی اور اس طرح اسکی ہنسی اڑاتے ہیں حالا نکہ یہ نفسی کی بات نہیں بلکہ بہت اچھی بات ہے مگر ہماری جماعت کے لوگوں کو بڑھاپے میں بھی یہ بات حاصل نہیں ہوتی الا ماشاء اللہ ایسے لوگ جو پنشنیں لے چکے ہیں یا لینے والے ہیں۔وہ اگر اپنے آپ کو اس طرح وقف کریں تو ان کو ہم لے سکتے ہیں کیونکہ ان کا کوئی بوجھ سلسلہ پر نہ ہو گا۔ایسے لوگوں کو کچھ قربانی کیلئے تیار رہنا چاہیئے۔اگر انہیں تبلیغ کیلئے بھیجا جائے تو چلے جائیں یا کم از کم وہ یہی اقرار کریں کہ سال میں تین چار ماہ وہ تبلیغ کیلئے خرچ کریں گے تو اس طرح وہ بھی بہت مفید ثابت ہو سکتے ہیں مگر اس وقت میرے زیادہ تر مخاطب نوجوان ہیں۔ان میں سے جو کھرے نکلیں گے وہ ایسے قیمتی جواہر ہوں گے کہ ان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا اور جو کمزور ثابت ہوں گے ان کے متعلق سمجھ لیا جائے گا کہ ہر بہتر سے بہتر چیز میں ایسا ہوتا ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالٰی ہماری جماعت کے نوجوانوں کو توفیق دے کہ ہر ضرورت جو پیش آئے اسے پورا کر کے خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن جائیں۔ان پر خدا تعالی کی رحمت چھا جائے۔ان پر خدا تعالیٰ کی محبت اس طرح مستولی ہو جائے کہ اس کے دین کی اشاعت کے سوا باقی تمام خیال بھول جائیں۔الفضل ۱۵ مئی ۱۹۲۸ء)