خطبات محمود (جلد 11) — Page 358
خطبات محمود ۳۵۸ سال ۶۱۹۲۸ رسول کریم ال نے کیا ہی اچھا کر بتایا تھا اگر مسلمان اس کی طرف توجہ کرتے تو بہت سے فتنوں اور لڑائیوں سے بچ جاتے۔آپ نے فرمایا جب کسی کو غصہ آئے اس وقت اگر وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور اگر بیٹا ہو تو لیٹ جائے اور اس وقت تک بات نہ کرے جب تک پانی پی لے ، دراصل غصہ دیوانگی ہوتی ہے اور عارضی دیوانگی ایک یا دو منٹ کے لئے ہوتی ہے وہ جب گذر جائیں تو حالت بدل جاتی ہے۔کتنی قتل ایسے ہوتے ہیں کہ اگر قاتل کا اس وقت جب کہ وہ غصہ میں تھا ایک منٹ کے لئے ہاتھ پکڑ لیا جاتا تو وہ قتل نہ کرتا بلکہ بہت ممکن ہے کہ دوسرے ہی منٹ میں اس سے چمٹ کر محبت کرنے لگتا جسے قتل کرنے لگا تھا اور معافی مانگتا کہ میں سخت غلطی کرنے لگا تھا۔تو غصہ آئی جذبہ ہے اور خدا تعالٰی نے اس کو محض ازالہ شر کے لئے رکھا ہے تا شرارت کو اس سے روکا جا سکے ورنہ اصل چیز خدا تعالی : محبت پیدا کی ہے۔اگر غصہ کے وقت انسان ایسی جگہ سے ہٹ جائے اور کہے میں اس بات کا فیصلہ پھر کسی وقت کرلوں گایا جیسے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے اگر کھڑا ہو تو بیٹھ جائے بیٹھا ہو تو لیٹ جائے اور پھر پانی پئے تو اس طرح سینکڑوں ہزاروں لڑائیاں دور ہو سکتی ہیں۔مگر میں کہتا ہوں یہ بھی ادنی بات ہے جس مؤمن کو غصہ روکنے کے لئے بیٹھنے یا لیٹنے کی ضرورت پڑے وہ سمجھ لے کہ وہ ابھی کامل مؤمن نہیں ہے۔مومن کو محسوس کرنا چاہئے کہ مجھے خدا تعالٰی نے محبت اور صلح کے لئے پیدا کیا ہے نہ لڑنے جھگڑنے کے لئے۔اور جب خدا تعالٰی نے انسان کو محبت کے لئے پیدا کیا ہے تو وہ اس سے محبت کرے گا جو دوسروں سے محبت کرنے والا ہو گا اور جو لڑتا ہے وہ اس کا محبوب نہیں بن سکتا۔اس وقت تک جتنے نبی، ولی اور نیک لوگ دنیا میں گذرے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو لوگوں سے لڑنے کے لئے آیا ہو۔وہ لوگوں سے تکلیفیں اٹھاتے ہیں مگر صبر کرتے ہیں اور اگر کسی کو سزا بھی دیتے ہیں تو اس لئے دیتے ہیں کہ اس کے سوا اصلاح کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔اور جب وہ سزا دے رہے ہوتے ہیں تو اس وقت اپنے دل میں درد محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔اور اگر ان کے پاس سیاست اور حکومت ہوتی ہے اور اس کے رو سے انہیں کسی کو قتل کرنا یا کرانا پڑتا ہے تو وہ خود دل میں قتل ہو رہے ہوتے ہیں۔وہ سزا محض اصلاح کی خاطر دیتے ہیں نہ کہ اپنا دل ٹھنڈا کرنے کے لئے اور یہی مؤمن اور غیر مؤمن میں فرق ہے۔مؤمن جب کسی کو سزا دے گا تو دل میں افسوس کر رہا ہو گا کہ کاش میں سزا نہ دیتا۔مگر غیر مؤمن کو اس میں لذت آتی ہے اور وہ کہتا ہے ممکن ہو تا تو اس سے بھی بڑھ کر کرتا۔اب ہر