خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 357

خطبات محمود ۳۵۷ سال ۶۱۹۲۸ کو دیکھتے ہیں ایک دفعہ آپ نے ایک یہودی سے قرض لیا یا ضرور نا کوئی چیز ادھار منگائی اور کچھ دنوں تک روپیہ ادا نہ کر سکے۔ایک دن وہ یہودی مسجد نبوی میں ہی آگیا جہاں رسول کریم کے پاس اور مسلمان بھی بیٹھے ہوئے تھے۔مدینہ میں رسول کریم ﷺ کی حکومت تھی مگر چونکہ وہ جانتا تھا کہ آپ کے اخلاق بہت بلند ہیں اس لئے اس نے مسجد میں آکر سختی سے مطالبہ شروع کیا حتی کہ گالیوں پر اتر آیا۔اس پر بعض صحابہ کو جوش آگیا انہوں نے اٹھ کر مارنا چاہا مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں اسے کچھ نہ کہو اسے حق حاصل تھا کہ مطالبہ کرتا کیونکہ اس کا مجھ پر قرض تھا۔اس وقت بھی آپ کے پاس روپیہ نہ تھا مگر آپ نے فرمایا کہ فلاں شخص سے قرض لے آؤ تاکہ اس کا روپیہ ادا کیا جا سکے۔چنانچہ روپیہ ادا کر دیا گیا اس بات کا ایسا اثر ہوا کہ وہ یہودی مسلمان ہو گیا ! اور کہنے لگا کہ میں صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ جس انسان کو رسالت کا دعوئی ہے اس کے اخلاق کیسے ہیں۔تو جس کا کچھ دینا ہو اس کے مقابلہ میں آواز اٹھانا بڑی بے شرمی ہے۔چاہئے کہ انسان نرمی سے جواب دے معذرت کرے اور جلد ادا کرنے کی فکر کرے۔ممکن ہے جب قرض لیا ہو تو اس وقت یہ سمجھ کر لیا ہو کہ میرا روپیہ آجائے گا اور میں ادا کر دوں گا مگر کچھ ایسے سامان ہو گئے ہوں کہ روپیہ نہ آسکا اور وہ نہ دے سکا۔قرض لینا کوئی اخلاقی جرم نہیں اور نہ یہ جرم ہے کہ کسی مجبوری کی وجہ سے مقررہ وقت تک ادا نہ کر سکے مگر یہ جرم ہے کہ قرض خواہ مطالبہ کرے تو اس سے لڑ پڑے اور بجائے اس کے کہ یہ کے جہاں اتنا احسان کیا ہے وہاں کچھ اور کرو اور مہلت دو اس سے بات بھی نہ کرنی چاہے۔پھر بسا اوقات بچوں کی لڑائی پر بڑے لڑ پڑتے ہیں بجائے اس کے کہ بڑے بچوں کو نصیحت کرتے بچے انہیں پاگل بنا دیتے ہیں۔بچے تو معذور ہوتے ہیں مگر وہ بڑوں کو بھی معذور بنا دیتے ہیں۔بعض اوقات جائز طور پر ایک بچہ کی ماں کو دوسرے بچہ کو تنبیہ کرنی پڑتی ہے مگر اس بچہ کی ماں آجاتی ہے جو یہ کہنا شروع کر دیتی ہے کہ تم کون ہو میرے بچے کو تنبیہ کرنے والی۔حالانکہ بجائے اس کے کہ وہ ناراض ہوتی اسے احسان ماننا چاہئے تھا کہ اس نے میرے بچے کے ساتھ ہمدردی کی مگر وہ لڑنے لگ جاتی ہے۔پھر بچوں کے باپ بھی اس لڑائی میں شامل ہو جاتے ہیں پھر محلے والے بھی گویا یہ لڑائی ایک جہاد ہے جس میں شامل ہونا موجب ثواب ہے۔حالانکہ ایسی لڑائی گناہ ہے ، عیب ہے ، گند ہے ، جس سے مؤمن کے لئے بچنا ضروری ہے۔