خطبات محمود (جلد 11) — Page 356
خطبات محمود ۳۵۶ سال ۱۹۲۸ء ہے۔لیکن غضب اس وقت نازل ہوتا ہے جب اس کے لئے پہلے بندہ کی طرف سے تحریک ہوتی ہے۔غرض رحمتیں تو بغیر ہمارے کام کے بھی نازل ہوتی ہیں اور بہت زیادہ نازل ہوتی ہیں مگر غضب ہمارے کسی جرم کی سزا کے طور پر ہوتا ہے اور ہمارے جرم کے مطابق ہوتا ہے زیادہ نہیں ہوتا۔پس جب کہ اللہ تعالٰی کی رحمت وسیع ہے تو مومن کا کام ہے کہ خدا کی دوسری صفات کی طرح یہ صفت بھی اپنے اندر پیدا کرے۔مؤمن کیا ہے مومن خدا تعالی کی صفات کا آئینہ ہوتا ہے۔جس طرح آئینہ اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس میں مالک کی شکل نظر آئے اسی طرح خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے بنایا ہے کہ خدا کی صفات اس کے ذریعہ ظاہر ہوں۔یاد رہے کہ شیشہ جب خراب ہو جاتا ہے تو انسان کی شکل اس میں عمدگی سے دکھائی نہیں دیتی است وقت وہ توڑ دیا جاتا ہے۔میں چھوٹا تھا جب میں نے ایک رؤیا دیکھی۔میں نے دیکھا کچھ لوگ ہیں جن کے سامنے میں تقویٰ پر وعظ کر رہا ہوں میرے ہاتھ میں ایک آئینہ ہے جو میں انہیں دکھا کر کہتا ہوں۔دیکھو جس طرح مالک شیشہ میں شکل دیکھتا ہے اسی طرح خدا انسان میں اپنی شکل دیکھتا ہے۔پھر میں کہتا ہوں جب شیشہ خراب ہو جاتا ہے اور اس میں شکل نظر نہیں آتی تو اسے یوں پھینک کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جاتا ہے۔اسی طرح جو دل گندا ہو جائے اور جس میں خدا کی شکل نہ نظر آئے اسے خدا بھی چور چور کر دیتا ہے۔تو مومن کا کام ہی یہ ہے کہ خدا کی صفات ظاہر کرے اور خدا تعالیٰ کی سب سے بڑی صفت رحمت ہے اور اصل یہی ہے۔ہاں جب اصلاح کی اور کوئی صورت نہ رہے تو اس وقت سزا دیتا ہے۔مگر بہت لوگوں کو دیکھا ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگ جاتے اور گالیوں پر اتر آتے ہیں حتی کہ مار پیٹ کی نوبت آجاتی ہے۔حالانکہ جب بات معلوم کی جائے تو اسے سن کر شرم آجاتی ہے کہ انسان کے بچوں کو ایسی معمولی بات پر لڑنے کی جرات کیسے ہوئی۔مثلا کئی لڑائیاں تو لین دین کے مطالبہ پر ہو جاتی ہیں۔کسی نے کسی کے روپے دینے ہوتے ہیں۔فرض کرو تاجر ہے ادھار سودا دیتا ہے مگر جب ایک دو ماہ کے بعد قیمت مانگتا ہے تو بجائے اس کے کہ مقروض ادا نہ کر سکنے پر شرمندگی کا اظہار کرتا اور اگر اس وقت بھی ادا نہیں کر سکتا تو معذرت کرتے ہوئے کہتا کہ مجھے خود خیال ہے اتنے عرصہ کی اور مہلت دیجئے میں جلد ادا کرنے کی کوشش کروں گا الٹا لڑنے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے قرضہ کیا لیا تھا آفت آگئی کسی وقت پیچھا ہی نہیں چھوڑتا۔پھر گالی گلوچ اور لڑائی کی نوبت آجاتی ہے۔اس کے مقابلہ میں رسول کریم