خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 337

محمود ۳۳۷ سال ۱۹۲۸ء چیز دی تھی اور وہ اچھا ہو گیا۔اس بڑھیا کو اس مریض اور اپنے مریض کی طبائع کے اختلاف کا کچھ علم نہیں ، بیماریوں کی علامتوں کا کچھ پتہ نہیں، دونوں میں بیماری پیدا ہونے کی وجوہات کی کچھ خبر نہیں صرف اتنا کہہ دیتی ہے کہ ہم نے اپنے مریض کو یہ چیز دی تھی۔اب اتفاق ایسا ہو جاتا ہے کہ دونوں کی حالت ایک ہی سی ہوتی ہے اور وہ بھی اسی چیز سے شفایاب ہو جاتا ہے۔مگر بادشاہ مرجاتے ہیں اور اس سے علم طب کا غیر صحیح ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔پس بعض دعاؤں کا قبول نہ ہوتا بتاتا ہے کہ کوئی اور بھی قانون اور صفات نہیں جو دنیا میں کام کر رہی ہیں۔جو آیت اس امر کے ثبوت میں پیش کی جاتی ہے کہ ہر دعا قبول ہونی چاہئے اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر دعا قبول نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقره (۱۸۷)۔لوگ کہتے ہیں اس کے یہ معنی ہیں کہ جب کوئی بندہ خدا تعالیٰ کو پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔مگر اسی پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ ہر دعا قبول نہیں ہوتی۔ایک شخص دعا کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو جائے مگر دعا کرتے وقت اس کے ذہن میں وہ خدا نہیں ہو تا جو کئی صفات کا مالک ہے۔بلکہ اس کے سامنے ایک دوسرا خدا ہوتا ہے جو اس کا ذہنی خدا ہوتا ہے۔وہ سمجھتا ہے خدا ایک وجود ہے اور اس کا یہی کام ہے کہ میری مراد پوری کر دے۔وہ اس کو مختلف صفات کا خدا نہیں سمجھتا بلکہ ایک خاص ذہنیت اس کے متعلق رکھتا ہے۔مگر خدا تعالی کی بعض صفات ہی چاہتی ہیں کہ اس کی دعا رد کر دی جائے۔خدا تعالیٰ کی صفات غنی ، جبار، قہار ، رحمن سب ہی ہیں۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اگر وہ ایک شخص کی دعا کو قبول کرے تو یہ اس کی دوسری صفات کے خلاف ہوتی ہے۔ایک بڑھیا عورت ہے اس کا اکلوتا لڑ کا قید ہو جاتا ہے وہ اس کی آزادی کے لئے دعا کرتی ہے۔اب خدا بے شک آزاد کرنے والا ہے مگر وہ اس بڑھیا کا ہی تو خدا نہیں وہ سب کا خدا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کو آزاد کرنے سے سینکڑوں انسان قید ہوں گے اس لئے وہ اس کی دعا کو رد کر دیتا ہے۔تو خدا نے فرمایا میں جو اصلی خدا ہوں اور تمام صفات کا مالک ہوں تمہارا ذہنی خدا نہیں ہوں اگر تمہاری دعا میری صفات کے مطابق ہو گی تو وہ ضرور قبول ہوگی اور جب کوئی انسان قرآن کے پیش کردہ خدا کو پکارتا ہے تو اس کی پکار ضرور سنی جاتی ہے۔خدا رحمان، رحیم ، قہار شدید العقاب سب صفات اپنے اندر رکھتا ہے اور دعا جب ان صفات والے خدا سے مانگی جائے تو وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔لفظ عنی میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ سب صفات والا خدا