خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 28

خطبات محمود ۲۸ سال 1927ء کسی طرح ان کو گورنمنٹ کی غلامی حاصل ہو جائے۔اور گورنمنٹ ان سے کوئی خدمت لے۔لیکن کس قدر عجیب بات ہے کہ اس خدمت اور عزت کے لئے کوشش نہیں کی جاتی جو انسان کی زندگی کا حقیقی اور واحد مقصد ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں پیدا ہی اس لئے کیا ہے کہ تم ہمارے مقرب بندے ہو جاؤ۔اور پورے غلام بن جاؤ۔کتنا بڑا اور کتنا اعلیٰ مقصد ہے۔مگر با وجود است کے اکثر حصہ دنیا کا اس طرف توجہ نہیں کرتا۔انسانی گورنمنٹ کی خدمت کے لئے کیا کچھ کیا جاتا ہے۔اور اس کی غلامی حاصل کرنے کیلئے کتنی کوشش کی جاتی ہے۔حالانکہ اس گورنمنٹ کی غلامی کیا اور عزت کیا ہے۔یہ گورنمنٹ تو خود اپنی عزت کے لئے دوسروں کی محتاج ہے۔اپنے قیام کے لئے دوسروں کی محتاج ہے۔اگر اس گورنمنٹ کی غلامی کے لئے اور اس کی خدمت کے لئے انسان اپنی ساری قوتوں کو بھی خرچ کر دیتا ہے تو بھی کیا حاصل کر سکتا ہے اور اس کا خدا تعالی کی غلامی سے کیا مقابلہ ہے۔مگر اس غلامی کے حصول کے لئے کوشش بھی زیادہ کرنی پڑتی ہے۔پھر انسانی گورنمنٹ کی خدمت اور غلامی حاصل کرنے کیلئے تو سفارشوں کی ضرورت ہے۔طرح طرح کے فریب کئے جاتے ہیں۔لیکن یہ غلامی تو اس ہستی کے لئے ہے جس کے لئے کسی سفارش اور کسی دعا و فریب کی ضرورت نہیں۔کسی سے ملنے کی ضرور ھے نہیں۔بلکہ بندہ براہ راست اس کے حضور جاسکتا ہے۔وہاں تو درخواستیں دینی پڑتی اور سفارشیں کرانی پڑتی ہیں۔لیکن یہاں اللہ تعالی خود غلاموں کو بلاتا ہے۔کہ آؤ میرے بندو ہم تمہیں نوکری دیتے ہیں۔ہم تمہیں غلامی کا درجہ دیتے ہیں۔تم ہمارے دروازے کو کھٹکھٹاؤ۔تمہارے لئے کھولا جائے گا۔تم پکارو تمہیں جواب دیا جائے گا۔ہاں شرط یہ ہے کہ جس طریق سے بلانا چاہئے۔اس طریق سے بلاؤ اور وہ طریق یہی ہے کہ تم اللہ تعالٰی کے سامنے صرف یہ اقرار کر لو کہ تم اس کے لئے موت قبول کرنے پر تیار ہو۔جب تم یہ اقرار کرو گے تو یہ نہیں ہو گا کہ تم پر موت وارد ہو گی۔بلکہ جس دن سے تم یہ اقرار کرو گے اسی دن سے تم کو نئی زندگی دی جائے گی۔دنیوی گورنمنٹ کی خدمت کے لئے تو لوگ اس کے دروازہ پر جاتے ہیں۔اور منتیں و خوشامد میں کرتے ہیں لیکن یہاں اس کے بالکل الٹ معاملہ ہے۔یہاں تو اللہ تعالٰی اپنے نبیوں کو بھیجتا ہے کہ جاؤ میرے بندوں کو میری طرف بلاؤ۔جس طرح جنگ کے زمانہ میں گورنمنٹ کی طرف سے حکام دیہات میں جا جا کر لوگوں کو خدمات کے لئے بلاتے تھے۔اسی طرح خدا تعالٰی انبیاء کو بندوں کی طرف بھیجا ہے کہ آؤ ہماری فوج میں داخل ہو جاؤ گورنمنٹ تو خطرہ کے وقت حکام کے ذریعہ لوگوں کو بلاتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ ہمیشہ انبیاء بھیجتا ہے۔پھر گورنمنٹ تو ادنی آدمی