خطبات محمود (جلد 11) — Page 327
خطبات محمود۔۳۲۷ سال ۱۹۲۸ء نے بچپن سے سکھایا۔پھر بعض احکام ایسے ہیں جو اس سے بھی پہلے سکھانے ضروری ہوتے ہیں۔مثلاً گندگی سے بچنا ہے۔اس کے لئے جب بچہ پیدا ہو اسی وقت سے ایسے طریق پر رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ وہ گندگی سے بچے۔چنانچہ جو عورتیں ہوشیار ہوتی ہیں وہ بچوں کو ایسی عادت ڈال دیتی ہیں کہ مقررہ وقت پر پاخانہ کرتے ہیں اور پاخانہ کے برتن میں کرتے ہیں فرش وغیرہ پر بیٹھے نہیں کرتے۔یہ بات ہفتوں اور مہینوں کا بچہ سیکھ سکتا ہے۔اب اگر کوئی پوچھے صفائی کے احکام کب سکھانے چاہئیں تو ہم کہیں گے دو تین ہفتہ کی عمر میں یا زیادہ چالیس دن میں بچہ اس کے لئے بالغ ہو جاتا ہے۔اور کوئی کہے زبانی تربیت کے احکام سکھانے کے لئے بلوغت کیا ہے تو ہم کہیں گے دواڑ ہائی سال۔اسی طرح سچ بولنا عادت سے تعلق رکھتا ہے۔اس کی فلسفیانہ خوبیاں تو پندرہ سولہ سال کی عمر کا بچہ نہیں سمجھ سکتا۔اب اگر کوئی پوچھے سچ بولنا کب سکھانا چاہئے تو ہم کہیں گے اڑہائی تین سال کی عمر سے سکھانا چاہئے۔اسی طرح ننگا رہنا ہے۔کیا کوئی کہ سکتا ہے کہ جب بچہ تیرہ چودہ سال کا ہو گا تب اسے کہیں گے کہ لنگوٹی باندھے یا پاجامہ پہنے۔دواڑ ہائی سال سے ہی اسے بتایا جاتا ہے کہ ننگا نہیں رہنا چاہئے۔پس بلوغتیں کئی ہیں بعض بچپن میں ہوتی ہیں۔بعض چلہ میں ہی اور بعض بارہ تیرہ سال میں۔بعض اس سے زیادہ عمر میں۔دیکھو شریعت میں یہ تو آیا ہے کہ جب بچہ بارہ سال کا ہو جائے تو سختی سے بھی اسے نماز پڑھاؤ مگر جہاد اس عمر میں فرض نہیں کیا گیا حتی کہ ایک دفعہ ایک پندرہ سالہ لڑکے نے خود جہاد میں شریک ہونے کی درخواست کی لیکن رسول کریم ﷺ نے انکار کر دیا کیونکہ اس کے لئے اور بلوغت کی ضرورت تھی۔ای طرح روزہ ایسا حکم ہے جس کے لئے جسمانی قربانی کرنی پڑتی ہے۔انسان کی چربی پگھلتی ہے اس لئے جب تک وہ زمانہ نہ آجائے جو جسمانی نشوو نما کے لئے ضروری ہے روزہ فرض نہیں ہو تا۔اور اگر بچے اس بلوغت پر پہنچنے سے پہلے روزہ رکھیں تو اس طرح قومی طور پر نقصان پہنچتا ہے کیونکہ بچپن میں چربی پگھل جانے سے صحت خراب ہو جاتی ہے اور پھر ایسا انسان کوئی کام نہیں کر سکتا۔ہمارے ہاں سترہ اٹھارہ سال کی عمر تک بچے عام طور پر نشو و نما پاتے ہیں کوئی شاذ ہی ہوتا ہے جو اس سے پہلے جسمانی نشو و نما پالے۔جو علاقے زیادہ گرم ہیں یا جو بدوی علاقے ہیں شہری نہیں وہاں پندرہ سولہ سال میں بلکہ چودہ سال میں بھی نشود نما پوری ہو جاتی ہے۔پس مختلف ملکوں کی مختلف بلوغتیں ہیں۔جب اس بلوغت کو کوئی بچہ پہنچ جائے تب اس کے لئے