خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 326

خطبات محمود Fry سال ۴۱۹۲۸ کی عمر میں بھی پیدا ہو جاتا ہے۔چاہے وہ کیڑا پیدا نہ ہو جو اس مادہ میں ولادت کا ذریعہ بنتا ہے مگر مادہ گیارہ بارہ سال کی عمر میں بھی پیدا ہو جاتا ہے اور عام حالت یہ ہے کہ بارہ تیرہ چودہ سال میں مادہ پیدا ہوتا ہے سوائے اس کے کہ کوئی شخص بیمار ہو اور اس کی صحت اچھی نہ ہو۔اس مادہ کے پیدا ہونے کی عمر کو بلوغت کی عمر کہا گیا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ جب یہ مادہ پیدا ہوتا ہے تو عقل انسانی ایک حد کمال تک پہنچتی ہے۔اس وقت بچہ کے حالات اور شکل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں مردانگی کی باتیں پیدا ہو گئی ہیں اور اس سے عقل میں تکمیل ہوتی ہے۔وجہ یہ کہ خدا تعالٰی نے عقل کی پرورش کا ایک ذریعہ اس مادہ کو بھی بنایا ہے۔اس سے کچھ رطوبتیں جذب ہو کر دماغ اور عقل تک پہنچتی ہیں اور اس کی پرورش ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے احکام شریعت اس حد سے وابستہ ہیں بلکہ جن باتوں میں عقل اور سمجھ کی ضرورت ہے وہ ساری کی ساری اسی سے وابستہ ہیں۔مثلاً نماز ہے اس میں زور اور طاقت کا دخل نہیں بلکہ عقل سے تعلق رکھتی ہے اس لئے ایسے بالغ پر فرض کی جاتی ہے۔اسی طرح بڑوں کا ادب یا اور باتیں جو عقل سے تعلق رکھتی ہیں محنت اور زور کی ان میں ضرورت نہیں ہوتی وہ اس بلوغت پر فرض ہو جاتی ہیں۔یعنی جب کوئی بارہ تیرہ چودہ سال کا ہو جائے گا۔اور مردمی کی بلوغت پر پہنچ جائے گا تو اس وقت وہ احکام اس پر عائد ہو جائیں گے جو عقل سے تعلق رکھتے ہیں۔یوں تو پہلے بھی اس میں سمجھ اور عقل تھی مگر چونکہ اس کی عقل کامل نہ تھی اس لئے شریعت کے ان احکام پر نہ چلنا اس کے لئے گناہ نہ تھا مگر اس بلوغت کے بعد گناہ ہو گا۔کچھ نہ کچھ زنگ تو پہلے بھی لگے گا مگر شرعی طور پر گناہ لازم نہیں آئے گا۔لیکن بعض ایسے احکام ہیں جن سے عقل کا تعلق نہیں بلکہ عادت کا تعلق ہے وہ اس بلوغت سے پہلے ہی ضروری ہو جاتے ہیں۔مثلاً دائیں ہاتھ سے کھانا ہے۔اس کے لئے کوئی ماں باپ انتظار نہ کرے گا کہ بچہ بالغ ہو لے تو اسے دائیں ہاتھ سے کھانے کے لئے کہا جائے۔دائیں ہاتھ سے کھانا بھی شریعت کا حکم ہے اور یہ عام حکم ہے کہ شریعت کے احکام بلوغت کے بعد عائد ہوتے ہیں لیکن اس حکم پر بچپن میں ہی عمل کرایا جاتا ہے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ نے محل بِيَمِينِكَ وَكُل مقا بلیک ، اپنے نواسے کو اس وقت فرمایا جب کہ اس کی عمر دو اڑ ہائی سال کی تھی کہ بچے اپنے داہنے ہاتھ سے کھاؤ۔چونکہ یہ کوئی ایسا حکم نہیں ہے جس کے لئے عقل کی پختگی کی ضرورت ہو یہ عادت سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اس پر عمل کرنا رسول کریم