خطبات محمود (جلد 11) — Page 276
سال ۶۱۹۲۸ دے اور دفتر کا کام گھسیارے کے سپرد- کوئی بادشاہ یہ نہیں کرے گا کہ وزیر کا کام ایک معمولی آدمی کے سپرد کر دے اور وزیر کو کسی ادنی سے کام پر لگا رے حتی کہ وہ یہ بھی نہ کرے گا کہ وزیر اعظم بننے کے لائق انسان کو وزیر بنا لے اور وزیر کو وزیر اعظم بنا دے جب کوئی انسان اس طرح نہیں کر سکتا تو اللہ تعالٰی سے کس طرح ممکن ہے کہ جو نبی خاتم النبیین ہونے کی قابلیت رکھتا تھا اسے نبی بنادے اور جو نبی ہونے کی قابلیت رکھتا تھا اسے خاتم النبین کا درجہ دے دے۔اگر یہ مانا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کا کام سب انبیاء سے بڑا تھا، آپ کو کامل شریعت دی گئی، آپ کو وہ مقام شفاعت عطا ہوا جو کسی اور نبی کو نہیں دیا گیا تو پھر یہ سمجھنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام یا کسی اور نبی کو آپ پر فضیلت حاصل تھی یہ رسول کریم ﷺ پر ہی اعتراض نہیں بلکہ خدا تعالٰی پر اعتراض ہے کہ اس نے رسول کریم ﷺ کو کام تو سب انبیاء سے بڑھ کر سپرد کیا مگر سب سے بڑا درجہ نہ دیا۔پس میں یہ مانتا ہوں کہ اعتراض غلط نہیں ہے۔مگر اس صورت میں ہمارے لئے یہی پہلو رہ جاتا ہے کہ جو معنی سمجھے جاتے ہیں وہ غلط ہیں اور اصل معنی و مفہوم کچھ اور ہے اس کے لئے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اعتراض کسی لحاظ سے پڑتا ہے۔اعتراض پڑنے کی وجہ یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ اور حضرت ابراہیم کی ذاتی فضیلت کا مقابلہ کیا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی ذات چونکہ اعلیٰ ہے اس لئے درود میں یہ دعا کرنے سے کہ آپ کی ذات کو وہ کچھ دیا جائے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیا گیا اس سے آپ کی ہنگ ہے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ذاتی فضیلت کے علاوہ اور بھی کئی باتیں ہوا کرتی ہیں جو درجہ کی بلندی کا ثبوت ہوتی ہیں اور جب کہ ذاتی فضیلت کے لحاظ سے اعتراض پڑتا ہے اور ادھر قرآن کریم میں درود پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اور رسول کریم ﷺ نے درود پڑھنے کا طریق بھی بتایا ہے تو پھر دیکھنا یہ چاہئے کہ کس طرح اور کسی لحاظ سے رسول کریم ﷺ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور درود پر اعتراض نہیں پڑتا۔قرآن کریم کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق و قسم کی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ایک تو ذاتی ہیں مثلا یہ کہ ابراہیم علیم ہے ، اواب ہے صدیق ہے، خدا کا مقرب ہے ان فضیلتوں کے لحاظ سے لاز مامانا پڑے گا کہ رسول کریم رو