خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 219

خطبات محمود ۲۱۹ سال 1927ء طرح خدا تعالٰی کا سلسلہ چلتا ہے ان فتنہ پردازوں کی ذریت بھی چلتی ہے۔ایسے لوگ رسول کریم کے زمانہ میں بھی تھے۔حضرت ابو بکڑ کے زمانہ میں بھی تھے۔حضرت عمر کے زمانہ میں بھی تھے۔انہیں بھی کسی نے کہہ دیا تھا۔آپ نے مال تقسیم کرتے ہوئے اپنے لئے زیادہ کپڑا رکھ لیا۔اور اس سے کرتا بنوالیا ہے اسی طرح ایک دفعہ حضرت عمر عبد الرحمن بن عوف سے صید حرم کے متعلق فیصلہ پوچھ بیٹھے۔کیونکہ قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ اگر کوئی احرام میں جانور کو مار دے تو اس کے متعلق دو آدمی فیصلہ کریں۔اگر رسول کریم اے کے سامنے بھی ایسا واقعہ آتا تو آپ بھی کسی اور کو شامل کر لیتے۔مگر جب حضرت عمر نے عبد الرحمن بن عوف سے کہا کہ اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔اور انہوں نے رائے بتائی حضرت عمر نے کہا میری بھی یہی ہے تو اسی بے وقوف سائل نے کہہ دیا۔اچھا خلیفہ بنا پھرتا ہے جسے دین کا بھی پتہ نہیں اور دوسروں سے پوچھتا ہے۔اس پر حضرت عمر نے کوڑا اٹھا کر اسے مارا کہ تم نے عدالت کی جو ہتک کی ہے اس کی سزادی جاتی ہے۔پھر ایسے لوگ حضرت عثمان کے زمانہ میں بھی تھے۔جنہوں نے بارہ نشیں ایسی تیار کی تھیں جن میں اپنے خیال میں حضرت عثمان ﷺ کی خیانت کے کام درج کئے تھے۔پھر حضرت علی کے خلاف بھی ایسے ہی لوگ تھے۔غرض جب تک خلافت صادقہ قائم رہی ایسے لوگ بھی موجود رہے۔اب تیرہ سو سال کے بعد خدا تعالٰی نے سلسلہ احمدیہ قائم کیا۔اس وقت جس طرح مومنوں کی جماعت اس کے گرد جمع ہو گئی۔منافقوں کی ٹولی بھی پیدا ہو گئی۔جنہوں نے گندے سے گندے اتمام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر لگائے۔جو دیانت اور تقویٰ کے خلاف تھے۔جو پاکیزگی اور بزرگی کے خلاف تھے۔ایسے لوگ بظاہر جماعت میں سے کہلاتے تھے مگر گندے اور الزام لگاتے تھے۔پھر حضرت خلیفہ اول جب خلیفہ ہوئے تو ان کے متعلق بھی یہ کہنے والے موجود تھے کہ روپیہ کھا جاتے ہیں اپنی حکومت جمانا چاہتے ہیں حتی کہ فسق و فجور تک کے اتمام لگائے گئے۔پھر میرا زمانہ آیا۔اب بھی اور جب تک بھی خلافت رہے گی ایسے لوگ ساتھ ہی رہیں گے کیونکہ جہاں مومنوں کا ہونا ضروری ہے وہاں منافقوں کا ہونا لازمی ہے۔میں نے خلافت کے شروع ایام میں ایک تقریر کی تھی اور بتایا تھا کہ اس اس رنگ میں فساد اور فتنہ کھڑا ہو گا۔اس تقریر کو سامنے رکھ کر اگر کوئی اس زمانہ کو دیکھے جب وہ تقریر کی گئی تو وہ حلف اٹھا کر کہہ سکتا ہے کہ ان واقعات میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جو اس وقت پایا جاتا۔پھر آج کے حالات دیکھے تو اسے معلوم ہو جائے کہ وہ ایک زبر دست پیشگوئی تھی۔جو خدا تعالیٰ کے تصرف سے کی گئی تھی۔میری مراد ۱۹۱۵ء