خطبات محمود (جلد 11) — Page 205
خطبات محمود ۲۰۵ سال 1927ء ہوتی ہے۔لیکن جن باتوں کو انسان جوش میں آکر کرتا ہے اور پھر چھوڑ دیتا ہے ان کے اثرات مٹ جاتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ انسانی قلب اور دماغ ایک وقت میں ایک حد تک ہی کسی چیز کو جذب کر سکتا ہے انسانی قلب و دماغ کی مثال کھیت کی سی ہے کسان کبھی یہ نہیں کر سکتے کہ کھیت کو ایک ہی دفعہ چھ سات دفعہ کا پانی دے لیں۔مثلاً گنا بویا ہے تو کبھی یہ نہیں کیا جائے گا کہ چھ سات دفعہ پانی دینے کی بجائے ایک ہی دفعہ اکٹھا پانی دے لیا جائے۔اور سمجھ لیا جائے کہ اتنے انچ پانی دینا ہے۔ایک ہی دفعہ کیوں نہ سارا دے لیا جائے۔یا کوئی کے ہفتہ بھر کا کھانا ایک ہی دفعہ کھالوں۔تو یہ بھی نہیں کر سکتا۔ایک دفعہ کا کھایا ہوا کھانا خواہ کتنا ہی زیادہ ہو تین دن تک بھی کافی نہیں ہو سکتا۔دو دن تک بھی نہیں ہو سکتا۔زیادہ سے زیادہ تیسرے وقت بھوک لگ جائے گی۔وجہ یہ ہے کہ معدہ جتنا کھانا جذب کرنے کی طاقت رکھتا ہو گا اتنا جذب کرلے گا اور باقی کو فضلہ کے طور پر خارج کر دیگا۔یہی حال انسانی دماغ کا ہے۔ایک ہی وقت میں علم و عرفان و روحانیت کی ساری باتیں کبھی اس میں داخل نہیں ہو سکتیں۔ایک وقت میں دماغ اتنی ہی باتیں جذب کرے گا جتنی اس کی طاقت ہوگی۔اور باقی کو اصلی شکل میں یا فضلہ کے طور پر نکال دیگا۔اور اس طرح وہ باتیں ضائع جائیں گی پس تمام کام استقلال اور آہستگی سے ہی ہوتے ہیں۔اور جو اس طریق کو اختیار کرتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں۔میں نے مسلمانوں کی افسوسناک حالت کو دیکھتے ہوئے چند تجاویز اپنی جماعت کے دوستوں اور دوسرے مسلمانوں کے سامنے پیش کی تھیں۔یہ اللہ تعالٰی کا فضل ہے کہ سب لوگوں کو ان کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔شیعہ۔سنی۔وہابی اور دوسرے اسلامی فرقوں کے لوگوں نے ان کی طرف توجہ کی۔اور بعض علاقوں میں ستر اسی نوے فیصدی لوگوں نے توجہ کی۔دور دور کے ایسے علاقے جہاں اردو زبان نہیں سمجھی جاتی۔اور جہاں کے لوگوں کو اپنی باتوں سے آگاہ کرنے کے ذرائع مسدود ہیں۔ان میں بیشک کم توجہ ہوئی۔لیکن یہ مجبوری کی وجہ سے تھی ورنہ جہاں جہاں آواز پہنچی۔وہاں کے لوگوں نے اچھی طرح توجہ کی۔لیکن صرف ایک وقت کسی بات کی طرف توجہ کرنا مفید نہیں ہو سکتا۔خواہ وہ بات کس قدر فائدہ بخش کیوں نہ ہو۔ہمیشہ استقلال سے کسی بات پر عمل کرنا ہی مفید ہو سکتا ہے۔اور جب تک استقلال سے عمل نہ کیا جائے کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکل سکتا۔مثلاً میں نے ایک تحریک یہ کی تھی کہ ہماری جماعت کے لوگ اپنے ہاتھ میں سوئیا رکھیں۔میری ہی تحریک نہ تھی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بھی تھی۔ایک دفعہ حضرت صاحب نے مجھے بلا کر کہا تھا جب باہر جاؤ سوٹا ہاتھ میں رکھو۔یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ ہاتھ