خطبات محمود (جلد 11) — Page 14
خطبات محمود ۱۴ سال 1927ء خدمت کر رہا ہوتا ہے۔مگر باوجود اس کے یہ فعل خود اس کے لئے فسق کا موجب ہوتا ہے۔چنانچہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں ہمیں اس کی ایک مثال نظر آتی ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص میدان جنگ میں کفار سے بڑی عمدگی سے لڑ رہا تھا جہاں مسلمانوں پر حملہ ہو تا تھا وہاں وہ پہنچتا۔یہاں تک کہ اکثر مسلمان کہنے لگے کہ یہ کیسا ہی اچھا شخص ہے کس جوش اور عمدگی کے ساتھ دین کی خدمت کر رہا ہے۔لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر دنیا کے تختہ پر کوئی جہنمی دیکھنا ہو تو اس شخص کو دیکھ لو۔اب یہ مسلمانوں کے لئے ابتلا کا موقع تھا کہ ادھر یہ شخص بڑھ بڑھ کر قربانیاں کر رہا تھا ادھر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ یہ شخص جہنمی ہے۔اس پر ایک شخص اس کے پیچھے پیچھے ہو لیا تا اس کا انجام دیکھے۔اس نے کہا کہ رسول کریم ا تو ضرور بچے ہیں۔مگر چونکہ بعض کمزور مسلمانوں کے شبہ میں پڑنے کا خطرہ ہے۔اس لئے میں اس کا ضرور انجام دیکھوں گا۔چنانچہ اس خیال سے اس کے پیچھے لگ گیا۔لڑنے کے بعد اسے دیکھا کہ وہ زخموں کی وجہ سے کراہ رہا تھا۔صحابی نے کہا۔تم نے آج بڑا کام کیا ہے۔اس نے کہا کہ میں نے اسلام کی خاطر جنگ نہیں کی۔بلکہ مجھے ان قبائل سے دشمنی تھی اور آخر اس نے زخموں سے تنگ آکر ایک بھالے پر اپنے آپ کو ڈال کر خود کشی کرلی۔جو یقیناً اسلام کے نزدیک جہنم میں لے جانے والا فعل ہے۔تب وہ صحابی فوراً رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا۔جبکہ آپ صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔اور اس شخص کا انجام بتایا۔جس کے متعلق نبی کریم نے خبردی تھی۔۔۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی ایک شخص ایسا کام بھی کرتا ہے جو ہو تا تو دین کا ہے۔لیکن اس کے لئے وہ فعل موجب فسق ہوتا ہے۔جس طرح یہ شخص کام تو دین کا کر تا تھا لیکن چونکہ وہ دین کی خاطر نہیں لڑ رہا تھا۔بلکہ وہ اپنے غصہ کے لئے لڑ رہا تھا۔اور محض اپنے غصہ اور کینہ کی بناء پر لڑنا اسلام میں حرام ہے۔اس لئے یہی فعل اس کے فسق کا موجب ہو گیا تو بسا اوقات انسان ایسا کام کرتا ہے جو دین کے لئے مفید ہوتا ہے اور اس شخص کے لئے جہنم کا موجب ہوتا ہے۔پھر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر فرشتوں نے تصرف کر کے یہ کام کرایا تو بھی قاتل مجرم نہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ تصرف دو قسم کے ہیں۔ایک تصرف اعمال کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔اور ایک تصرف براہ راست ہوتا ہے۔براہ راست تصرف کے ماتحت کام کرنے والا مجرم نہیں ہو تا لیکن وہ کام جو اس تصرف کے ماتحت ہو۔جو پہلے اعمال کا نتیجہ ہو تا ہے۔اس کا کرنے والا مجرم ہو گا۔یہ