خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 187

خطبات محمود سال 1927ء پر عمل نہیں کرتے۔میں اپنی جماعت کو خصوصیت سے اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ تو کل کے صحیح معنے سمجھیں۔ان پر عمل کریں اور یقین رکھیں کہ جب انہوں نے اپنے کام خدا تعالٰی کے سپرد کر دیئے تو تمام دنیا سے کبھی نہیں ہار سکتے۔کبھی نہیں ہار سکتے۔کبھی نہیں ہار سکتے۔اگر وہ خدا تعالیٰ پر توکل رکھیں تو ضرور کامیاب ہونگے۔اور خدا تعالی مسلمانوں کو بیدار کرنے کا کام ان سے کرا دے گا۔بیشک ہم کمزور ہیں۔ہماری مالی حالت کمزور ہے ہم جو کچھ کماتے ہیں خالص ضروریات زندگی پر خرچ کر کے باقی جو کچھ بچتا ہے دین کے لئے لگا دیتے ہیں۔اس طرح ہمارے مال کا آخری پیسہ تک دین کے لئے خرچ ہو رہا ہے۔مگر جس خدا پر ہمارا تو کل ہے۔ہر بات کر سکتا ہے۔دیکھو ہمارے دلوں میں یہ خواہش تو مدت سے تھی اور اس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں بھی پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو بیدار کیا جائے مگر کون کہہ سکتا تھا کہ بیدار کرنے کے ایسے سامان اتنی جلدی پیدا ہو جائیں گے۔جیسے پچھلے چند دنوں میں پیدا ہو گئے ہیں۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ سوئے ہوئے مسلمان یک لخت جاگ اٹھے ہیں یا یہ کہ قبریں پھٹ گئی ہیں۔اور ان میں سے لوگ نکل کر بھاگنے لگ گئے ہیں۔یہ حالات بتاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ جب چاہے اور جو چاہے کر سکتا ہے۔پس اصل چیز اس پر تو کل اور بھروسہ ہے۔اس کے احکام کے مطابق کام کرو تو ضرور کامیاب ہو جاؤ گے۔خدا تعالی کے فضل سے اسلام تمہارے ذریعہ ترقی کرے گا۔اور جو قومیں اس وقت ست اور غافل ہیں وہ چالاک اور ہوشیار ہو جائیں گی۔اور جو سو رہی ہیں وہ بیدار ہو جائیں گی۔اور جو مری ہوئی ہیں وہ زندہ ہو جائیں گی۔الفضل ۹/ اگست ۱۹۲۷ء) ل ترمذى ابواب صفة القيمة باب ماجاء في صفة اواني الحوض