خطبات محمود (جلد 11) — Page 13
خطبات محمود ۱۳ سال 1927ء نے یہ فعل کیا تو وہ مجرم تھا۔لیکن چونکہ ہم کو معلوم نہیں کہ وہ قاتل کون تھا اور اس کے کیا حالات تھے کن حالات میں اس نے اس فعل کا ارتکاب کیا۔اس لئے ہم اس قتل کے متعلق اور قاتل کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے۔خصوصا جب کہ ہمیں آریہ قوم کے بیانات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے قتل کے اسباب میں سے بعض اندرونی تنازعات بھی تھے تو پھر ہم غیر جانبدار ہونے کی صورت میں قاتل کو مجرم کیسے قرار دے سکتے ہیں۔باقی چونکه شردھانند صاحب کے قاتل کے حالات ایک حد تک ہمارے سامنے بیان کئے گئے ہیں۔اس لئے ہم نے ان خیالات و حالات کے متعلق کہا ہے کہ ان معتقدات و حالات کا رکھنے والا جو کوئی بھی ہو اس نے نہایت بھیانک فعل کا ارتکاب کیا اور دو قوموں کے امن کو برباد کرنا چاہا ہے۔لیکن پنڈت لیکھرام صاحب کے قاتل کے متعلق ہم کوئی رائے نہیں قائم کر سکتے۔کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس قاتل نے ایسے حالات میں قتل کیا ہو کہ جن کے ماتحت وہ اس فعل پر قابل تعریف ہو اور ہو سکتا ہے کہ اس کا یہ فعل جائز ہو ایسے حالات میں اس نے یہ فعل کیا جن کے ماتحت یہ فعل قانوناً اور عقلاً جائز ہو اور ہو سکتا ہے کہ وہ قاتل معذور ہو۔مثلا وہ دیوانہ ہو یا اتفاقی طور پر اس کے ہاتھ سے کوئی چیز ایسے طور سے گری ہو جس سے وہ قتل ہو گئے ہوں۔اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ہی کسی آدمی کے ہاتھ سے باہمی تنازعات کی بناء پر مارے گئے ہوں جیسا کہ ہندو قوم کے اپنے بعض بیانات سے معلوم ہوتا ہے۔دوسری بات یہ کسی جاتی ہے کہ اگر قاتل نے یہ فعل خدا تعالٰی کے تصرف کے ماتحت کیا ہے۔کیونکہ در حقیقت یہ فعل فرشتہ کا نغل تھا جو انسانی ہاتھوں سے خدا تعالٰی کے تصرف نے کرایا۔تو پھر قاتل کو قابل ملامت کیوں سمجھا جاتا ہے اور کیوں اس پر الزام آتا ہے۔اس کا ایک ضمنی جواب تو پہلی بات میں ہی آگیا ہے جو یہ ہے کہ فرشتہ کے فعل کے ہر گز یہ معنی نہیں کہ اس فعل کے ماتحت ہر انسان کا فعل ضرور قابل تعریف ہوتا ہے۔مثلاً ہر ایک کی جو جان نکالی جاتی ہے وہ فرشتہ کے ذریعہ ہی نکالی جاتی ہے۔لیکن باوجود اس کے ہر قاتل معذور نہیں سمجھا جائے گایا قابل تعریف نہیں ہو گا اگر یہ بات ہو کہ فرشتہ کا جو نعل انسان کے ذریعہ ہو اس میں انسان معذور سمجھا جائے تو دنیا میں ہر قاتل معذور سمجھا جائے گا۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں إِنَّ اللَّهَ يُوَيَدُ هَذَا الدِّيْنَ بِرَجُلٍ فاجر اللہ تعالی فاسق و فاجر آدمی سے بھی دین کی تائید کا کام لے لیتا ہے۔ایک شخص دین کی 2