خطبات محمود (جلد 11) — Page 162
خطبات محمود ۱۶۲ سال 1927ء جو لوگ جلدی جوش میں آجاتے ہیں۔وہ جلدی ٹھنڈے بھی ہو جاتے ہیں۔اور جو جوش میں کم آتے ہیں وہی کام کرتے ہیں۔اس خطرناک وقت میں جس سے زیادہ خطرناک وقت رسول کریم ﷺ سے محبت رکھنے والی قوم کے لئے سمجھنا مشکل ہے۔جب ایک قوم کی قوم دیدہ دانستہ مسلمانوں کو بھڑکانے کے لئے ان کی محبوب ترین ہستی کو گالیاں دیتی ہے۔اس وقت مسلمانوں کے حال کو وہی سمجھ سکتا ہے۔جو انسانی فطرت سے واقف ہو۔کتنی مشکل بات ہے۔اگر مسلمان گالیوں کا جواب گالیوں سے دیتے ہیں تو اس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔اور اگر چپ رہتے ہیں تو ان کی آئندہ نسل میں بے غیرتی پیدا ہوئی لازمی ہے۔کیونکہ جو قوم اپنے بزرگوں کے متعلق گالیاں سن کر چپ رہتی ہے۔اس میں بے غیرتی پیدا ہو جاتی ہے۔غرض آج اگر مسلمان آریوں کی گالیوں کے مقابلہ میں چپ رہتے ہیں تو آئندہ نسلیں بے حیا اور بے غیرت ہو سکتی ہیں۔اور اگر جوش اور غصہ کا اظہار کرتے ہیں تو اس کے لئے صحیح اظہار کا موقع نہیں ملتا۔مسلمانوں اور ہندؤوں کی اپنی حکومتیں نہیں کہ ایک دوسرے پر فوج لے کر چڑھ دوڑیں دونوں غیر قوموں کے ماتحت ہیں اور جب کہ ہمارے نزدیک محمد اے کو گالیاں دینا بد ترین فعل ہے۔اس حکومت کے نزدیک معمولی بات ہے۔بلکہ ممکن ہے حکومت کے بعض عمال کے نزدیک اچھی بات ہو۔بعض شریف الطبع انگریز رسول کریم اے کے خلاف بد زبانی سن کر غصہ میں آجاتے ہیں۔اور رسول کریم انا یا اس لیے کی عزت کا خیال رکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔گو اس طرح نہیں جیسے مسلمان۔مگر پھر بھی کئی ایسے ہو سکتے ہیں جو حیران ہوتے ہوں کہ محمد کو گالیاں دینا کونسی ایسی بات ہے جس پر مسلمان اس قدر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔ایسی حالت میں مسلمانوں کے لئے کس قدر مشکلات ہیں۔قانون ہمارے اختیار میں نہیں کہ اس کے ذریعہ جوش نکال سکیں۔اور خاموش اس لئے نہیں رہ سکتے کہ آئندہ نسلیں تباہ نہ ہو جائیں اوران میں بے غیرتی نہ پیدا ہو جائے۔قانون ایک ایسی قوم کے ہاتھ میں ہے جس کے احساسات شریفانہ طور پر خواہ ہمارے ساتھ کتنے ہی ملتے ہوں مگر ہمارے جیسے نہیں ہو سکتے۔اس وجہ سے بسا اوقات کسی امر کے متعلق گورنمنٹ کو توجہ دلانا بے فائدہ ہوتا ہے۔اور بسا اوقات حکام سمجھتے ہیں یہ ذرہ ذرہ سی بات پر چڑنے والے لوگ ہیں ورنہ یہ بھی کوئی بات ہے جس کی شکایت کر رہے ہیں۔اس حالت میں ہمارے لئے نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے جذبات و احساسات کو اپنے قبضہ میں رکھیں۔پس میں اپنی جماعت کے لوگوں کو اور ان دوسرے مسلمانوں کو جو میری باتیں توجہ سے