خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 142

خطبات محمود سال 1927ء کہتا ہوں کہ ہمیں یہ مقصد سامنے رکھنا چاہئے کہ اسلام پھیلے اور آنحضرت اللہ کی براءت ہو۔قطع نظر اس بات کے کہ وہ اشخاص قید ہوتے ہیں یا نہیں۔ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ انہوں نے گالیاں تو دے لیں اور یہ گالیاں اب واپس نہیں ہو سکتیں۔اس لئے بجائے اس کے کہ ہم یہ دیکھیں کہ وہ قید ہوتے ہیں یا نہیں۔ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ لوگوں کے خیالات کو تبدیل کریں۔اور میں کئی بار اعلان کر چکا ہوں کہ وہ کوشش تین طریق سے ہو سکتی ہے۔اول تبلیغ کے ذریعے دوم اپنے نفس کی اصلاح سے سوم اقتصادی اور تمدنی حالت کی درستی ہے۔یہ تین باتیں ہیں۔جن سے لوگوں کے خیالات تبدیل ہو سکتے ہیں۔ان لوگوں کو دولت اور روپیہ کا گھمنڈ ہے۔اور وہ اس زور اور گھمنڈ کی بناء پر مسلمانوں کو بالکل ذلیل خیال کرتے ہیں۔اور سمجھتے ہیں کہ مسلمان ہمارے غلام بلکہ غلاموں کے بھی غلام ہیں۔اس لئے ایسی گندی تحریریں شائع کرنے والے مسلمانوں کو تکلیف دینے یا صدمہ پہنچانے میں کوئی خوف نہیں محسوس کرتے۔کیونکہ جانتے ہیں کہ ان کی قوم لاکھوں روپے مقدمات پر خرچ کرنے کے لئے تیار ہے۔میں نے چوہروں کے بھی تمام افراد کو گندہ نہیں دیکھا وہ بھی سارے کے سارے گندے نہیں۔تو کیا ہندو قوم جو بہت بڑی قوم ہے ساری کی ساری گندی ہو سکتی ہے۔اس قوم میں بھی شریف آدمی ہیں۔لیکن وہ شریر آدمیوں سے دبے ہوئے ہیں۔اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان کی تعداد گالیاں دینے والوں سے بہت زیادہ ہے۔اور اگر ان پر تمدنی زور ڈالا جائے۔تو وہ ان لوگوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے جو ان میں سے شریر ہیں۔اور اس کا اثر یہ ہو گا کہ خود بخود گالیاں دینے والے بیٹھ جائیں گے۔مسلمان تو ان گالیاں دینے والوں کو جو کچھ برا بھلا کہیں گے سو کہیں گے۔ان تدابیر کے نتیجہ میں خود ان کی اپنی قوم ہی ان کو برا سمجھے گی اور انہیں ملامت کرے گی۔پس بجائے اس کے کہ ہم بے اثر طریقے اختیار کریں۔ہمیں چاہئے کہ ہم ہندو قوم کے اس شریف طبقہ پر تمانی زور دیں۔اور جب وہ طبقہ اس بات کو سمجھ لے گا کہ دوسری اقوام کا دل دکھانا آسان نہیں ہے۔اور اس سے قومی نقصان پہنچتا ہے۔تو وہ خود اپنی قوم کے بد اخلاق لوگوں کو ان کے افعال سے روکے گا۔اور وہ لوگ اپنے گندے افعال سے باز آجا ئیں گے۔اس کے بعد میں ایک اور اہم سوال کی طرف توجہ کرتا ہوں۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ گورنمنٹ کے ایک ذمہ دار افسر نے ہماری جماعت کے چند دوستوں سے ملاقات کے وقت ایک سوال کیا ہے جو میرے نزدیک بہت نا مناسب تھا۔ان صاحب نے جن کی میں ذاتی طور پر بہت عزت