خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 136

خطبات محمود سال 1927ء خوارج کو کہیں کہ جنہیں تم تیرہ سو سال سے کافر کہتے آئے ہو انہیں کافر نہ کہو تو وہ ہرگز اس کو نہ مانیں گے۔نجدی جب مکہ میں داخل ہوئے تو یہ کہہ کر کہ یہ کافر ہیں مشرک ہیں سینکڑوں کو مار ڈالا۔میں جب حج کرنے کے لئے گیا تھا تو ان کو ملا۔یہ سمجھدار لوگ ہیں مہذب بھی ہیں۔لیکن پرانے خیالات کے ہیں۔اب بھلا اس کے سوا صلح کا کوئی اور طریق ان سے ہو سکتا ہے۔جاوا یا چین یا سماٹرا یا ترکی یا ایران یا افغانستان کے لوگوں کو کہنا کہ تم جن باتوں کو کئی سو سالوں سے مانتے چلے آئے ہو ان کو چھوڑ دو۔اور ان باتوں کو نظر انداز کردو۔جو صدیوں سے تم کرتے آئے ہو۔تو یہ ناممکن ہے ایک خارجی کو کہنا کہ بڑے گناہ کے ارتکاب کو کفر قرار نہ دو۔تو خارجی کبھی ایسا نہیں کرے گا۔کبھی نہیں کہے گا کہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کفر نہیں ہوتا۔اور اگر ہم اسے کہیں کہ تم اس کو کفر نہ کہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم انہیں کہتے ہیں۔تم اپنے آپ کو خوارج کہنا چھوڑ دو۔جو ناممکن ہے۔میرے نزدیک مسلمانوں کی اس پر صلح نہیں ہو سکتی۔لیکن اگر فرض کر لیا جائے۔کہ ہو سکتی ہے تو سینکڑوں سال کے بعد۔لیکن جو میں نے بات بتائی ہے وہ ایسی ہے کہ اس سے صلح فورا ہو سکتی ہے۔اور ہمیں جلد اس صلح کی ضرورت بھی ہے۔کیونکہ ایک ایسا بھی دشمن ہے جو ہم کو مارنا چاہتا ہے۔اس کا مقابلہ اکٹھے ہو کر کرنا چاہئے۔شیعہ ہوں یا سنی۔احمدی ہوں یا وہابی - چکڑالوی ہوں یا کوئی اور سب کو اس کے مقابلے کے لئے اکٹھے ہو جانا چاہئے۔واقعات ثابت کر رہے ہیں کہ دو تین سال کے عرصہ کے اندر ہی اس تعریف کو اس قدر قبولیت ہوئی کہ مسلمانوں کے فرقے اس پر جمع ہو رہے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ بعض اسکا انکار کر دیں۔لیکن ان کی تعداد اس قدر قلیل ہو گی کہ جو اس کے ماننے والے ہوں گے ان کی تعداد کثیر ہوگی۔اور ان کی کثرت کا مقابلہ ان کی (Minority) قلت نہیں کر سکتی۔تو یہ تعریف عام طور پر مقبول ہوئی۔بعض اشخاص نے اعتراض کیا ہے کہ مذہبی لوگوں کا کیا کام ہے کہ اسلام کی مذہب کے سوا سیاسی تعریف بھی کریں۔جنہوں نے اعتراض کیا ہے میں نام لے کر ان کا جواب دے سکتا ہوں۔لیکن میں نے ان سے صلح کا معاہدہ کیا ہوا ہے۔گو دوسرے فریق نے اس معاہدہ کو تو ڑ دیا ہے۔لیکن میں اس حصہ جواب سے پہلو تہی کرتا ہوں۔جو میری ذات کے متعلق ہے۔مگر میں اس اعتراض کے متعلق بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام کے فرقوں میں سیاسی صلح بھی ہو سکتی ہے۔قرآن نے مشرکوں کے