خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 135

+1927 ۱۳۵ خطبات محمود بڑے بڑے آدمی کوشش کرنی شروع کر دیں۔تو انہیں کسی مذہبی اصل کی قربانی بھی نہیں کرنی پڑتی۔اور یہ اتحاد بھی ہو جاتا ہے۔یہ تجویز پہلے پہل مسلم لیگ کے جلسہ میں جولاہور میں آل انڈیا مسلم پارٹیز کے جلسہ سے ایک سال پیشتر ہوا۔پیش کی گئی تھی اور پھر آل انڈیا مسلم پارٹیز کے جلسہ منعقدہ امرتسر میں دہرائی گئی تھی۔عام طور پر تعلیم یافتہ طبقہ کے لوگوں نے علی الاعلان اور پرائیویٹ دونوں طور پر بڑے زور سے کہا کہ مسلمانوں کے فرقوں میں اس سے صلح ممکن ہو سکتی ہے۔پچھلے دنوں جب میں لاہور گیا ہوا تھا تو وہاں ایک مجلس میں جس میں صوبہ کے بڑے بڑے لیڈر تھے اور ایک تو ان میں سے ہندوستان کا لیڈر کہلا سکتا ہے۔انہوں نے یہ کہا کہ مسلمانوں کی صلح ہونے کا یہ بہترین ذریعہ ہے۔اور در حقیقت یہ بات ہے بھی درست۔کیونکہ اس سے مسلمانوں کے فرقے بغیر اپنے کسی اصل کے چھوڑنے کے متحد ہو سکتے ہیں۔مثلا شیعہ لوگ اسی پر یقین رکھتے ہیں کہ ان کے آئمہ ویسے ہی معصوم ہیں جیسے انبیاء۔اور یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ ان کے حقوق بھی ویسے ہی ہیں جیسے انبیاء کے ہیں۔ان کے نزدیک امام بھی معصوم ہوتا ہے۔اس وجہ سے لازماً ان کو ماننا پڑتا ہے کہ ان کا درجہ ایک ہے۔اور اس اتحاد کے لئے اگر کسی پر یہ زور دیا جائے کہ پہلے اپنی تعلیم کا انکار کیا جائے۔تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم صداقتوں کا انکار کرواتے ہیں۔اسی طرح شیعہ سنی کا حال ہے۔جو ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں اور جو اس کا انکار نہیں کر سکتے۔شیعہ سنی کا فرق تو دوسری تیسری صدی میں ہوا۔خوارج پر تو کفر کا فتویٰ پہلی صدی میں ہی لگ گیا تھا اور ان کو خارج از اسلام سمجھا گیا اور برابر تیرہ سو سال سے ہی یہ اختلاف چلا آتا ہے۔اور اس کی بناء پر خوارج کو کافر کہا جاتا ہے۔اور وہ بھی دوسروں کو کافر کہتے ہیں۔بلکہ وہ تو کہتے ہیں کبیرہ گناہ کرنے والے کا فر ہیں۔حتی کہ وہ حضرت علی کو بھی کافر سمجھتے ہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں معاویہ کی طرف سے جو فیصلہ پیش کیا گیا اسے جو انہوں نے تسلیم کر لیا اس لئے وہ کافر ہیں۔خوارج کے نزدیک کبیرہ گناہ کی تعریف بھی کچھ اور ہے۔دوسرے مسلمانوں کے نزدیک جو چھوٹے چھوٹے گناہ ہوتے ہیں خوارج ان کا نام کبیرہ رکھتے ہیں۔حضرت عباس نے کہا بھی کہ تم نے بھی ایسا ہی کیا تو انہوں نے کہا ہم نے توبہ کرلی۔ہم مسلمان ہو گئے۔علی بھی اگر تو بہ کریں تو مسلمان ہو سکتے ہیں۔تو خوارج کی طرف سے علی پر فتوی لگا۔تو وہ ان کو اور علی کے ماننے والے ان کو کافر سمجھتے ہیں اور یہ کفر کا مسئلہ پرانا ہے۔اب اگر علی کے ماننے والے کو کہیں کہ میاں تم ان کو کافر کہنا چھوڑ دو۔تو یہ آسان نہیں۔