خطبات محمود (جلد 11) — Page 132
خطبات محمود سال 1927ء انہیں مت کافر کہو۔ہمارا یہ کام ہے کہ ہم یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ جسے تم کافر کہتے ہو وہ کافر نہیں۔اور جب تک وہ ایسا کہتا اور ایسا سمجھتا ہے۔ہم اسے یہ نہیں کہہ سکتے۔کہ جو کچھ تم نے سمجھا۔اس کے مطابق نتائج اخذ نہ کرو۔اور جسے تم کافر کہتے ہو۔اس کے متعلق یہ کہہ دو کہ مسلمان ہے۔اگر ایسا کریں تو یہ مشکل ہے۔لیکن اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ اپنی ضمیر کو قربان کرتا ہے۔جب کہ ہم یہ ثابت نہ کریں کہ جسے وہ کافر کہتا ہے وہ کافر نہیں۔تب تک ہم اسے یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جسے تم کافر سمجھتے ہو اسے کافر کہنا چھوڑ دو۔ایک آدمی سے ایسا نہیں منوا سکتے۔اور تمام افراد سے یہ منوالینا تو اور بھی مشکل ہے۔اور اگر یہ ہو بھی تو اس کے لئے ایک لمبا عرصہ چاہئے۔کسی کو کسی کے کافر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ بعض مسائل کو بعض مسائل پر ترجیح دیتے ہیں۔اور بعض ان میں سے اصولی عقائد ہوتے ہیں۔جن کو وہ بڑے اہم قرار دیتے ہیں۔تو جن مسائل کو وہ اہم قرار دیتے ہیں۔ان کو وہ آسانی کے ساتھ نہیں چھوڑ سکتے۔ان کو تو بہر حال وہ کریں گے۔اور ان کے لئے ان کا چھوڑنا مشکل ہو گا۔پس اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ یہ ان کو چھوڑ دیں تو یہ ایک اہم بات ہے۔تو میں نے اس کو دیکھ کر پچھلے دنوں یہ تجویز کی تھی کہ اسے مسلمانوں کے فرقوں میں صلح کی بنیاد نہ بنا ئیں۔یہ اختلاف میرے نزدیک منانا ممکن ہے۔اور جن کے نزدیک اس کا مٹنا ممکن ہے۔ان کے نزدیک بھی یہ کام سینکڑوں سال کے بعد ہو گا۔سینکڑوں بلکہ ہزاروں سالوں کے جو اختلاف چلے آتے ہیں۔وہ چند دنوں میں انہیں دور نہیں کر سکتے۔اور جب ایسے تمام اختلاف چند دنوں میں نہیں مٹ سکتے۔بلکہ ان کے لئے سینکڑوں اور ہزاروں سال کا عرصہ چاہئے۔تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ہمیں اسی سیاسی مقابلہ کے لئے جو اس وقت دوسری قوموں سے ہے ایک لمبے عرصہ تک خاموش رہنا چاہئے۔حتی کہ یہ اختلاف مٹ جائیں اور مسلمانوں کے تمام فرقے ایک ہو جا ئیں۔اس بات سے جو نقصان پہنچ سکتا ہے وہ ظاہر ہے۔مسلمان جب تک اس کی انتظار کریں گے کہ مسلمانوں کے تمام فرقے ایک ہو جائیں۔تب تک دشمن ان کو برباد کر دے گا۔لیکن دوسری قوموں کے ساتھ جو مسلمانوں کا سیاسی مقابلہ ہے۔اس کا تو فیصلہ چند سال میں ہونا چاہئے۔اب اگر ایسے فیصلہ کے لئے جو چند سال میں ہونا چاہئے۔ہم ایسا کام کرتے ہیں جس سے صدیوں کے بعد یہ فیصلہ ہو۔اور کون کہہ سکتا ہے کہ صدیوں کے بعد بھی یہ فیصلہ ہو۔کیونکہ یہ بھی یقینی امر نہیں کہ صدیوں کے بعد ضرور ہی اسلام کے تمام فرقے اکٹھے ہو جائیں گے۔تو باوجود اس کے ہمارا ایسا کرنا خود اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑا مارنا ہے۔جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ضرور پہلے اختلافات کو مثالینا چاہئے۔اس سے انہیں