خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 124

خطبات محمود ۱۲۴ سال 1927ء مونجے یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ہندو بنالو۔ذرا غور تو کرو جب آریہ کہتے ہیں عرب میں دیدک دھرم کا جھنڈا گاڑیں گے۔تو اس سے فتنہ نہیں پیدا ہوتا۔لیکن جب امام جماعت احمد یہ کہتا ہے کہ ہندوؤں کو مسلمان بنالو تو کہا جاتا ہے اس سے فتنہ پیدا ہوتا ہے۔اگر میں نے یہ کہا ہو تا کہ لوگوں کو جبراً مسلمان بناؤ۔ان سے لڑو انہیں مارو تو اس سے فتنہ پیدا ہو سکتا ہے۔لیکن جب یہ کہا جاتا ہے کہ ہندوؤں پر اسلام کی سچائی ظاہر کر کے اسلام میں داخل کرو۔تو اس میں فتنہ کی کون سی بات ہے۔اگر اس سے فتنہ پیدا ہو سکتا ہے تو پھر شدھی کے متعلق ہندوؤں کے اقوال سے کیوں فتنہ نہیں پیدا ہو تا۔پھر جتنے مصلح آئے وہ چند لوگوں کو منوانے کے لئے آئے تھے۔یا ان سب کو جن کی طرف وہ بھیجے گئے جب بابا نانک آئے تو ان کی غرض چند ایک لوگوں کو ہدایت دیتا تھی یا سب کو۔اسی طرح جب کرشن آئے تو ان کا نشا سارے ہندوستان کو اپنی تعلیم پر کار بند کرنا تھا یا ہندوستان کے ایک حصہ کو۔اسی طرح جب رام چندر آئے تو ان کا مقصد سارے ہندوستان میں اپنی تعلیم پھیلانا تھا یا تھوڑے حصہ میں۔یا جب ویدوں کے رشی آئے تو وہ سارے ہندوستان کے لئے تعلیم لائے تھے یا چند لوگوں کے لئے۔ہاں منو کو یہ شبہ ضرور ہوا ہے کہ ویدوں کی تعلیم سب ہندوستانیوں کے لئے نہیں تھی۔کیونکہ انہوں نے کہا ہے اگر شود ردید کا کوئی منترین پائے تو اس کے مکان میں سیسہ پگھلا کر ڈالنا چاہئے۔باقی سب لوگوں کا یہی خیال رہا ہے کہ سچائی سب کو سننی چاہئے۔رام چندر کرشن گرونانک کا یہی عقیدہ تھا۔اسی طرح میرا بھی یہی عقیدہ ہے۔اب کوئی اس میں فساد دیکھتا ہے تو یہ اس کی آنکھ کا قصور ہے میرا قصور نہیں ہے۔ہندو ہیرلڈ کا نامہ نگار سب کو مسلمان بنانے کا ذکر کرتا ہوا لکھتا ہے۔بھلا جس کام کو اورنگ زیب جیسا بادشاہ نہ کر سکا اسے تم کس طرح کر لو گے۔بندہ خدا اور نگ زیب کی ہستی ہی کیا تھی میرے سامنے۔اور نگ زیب بادشاہ تھا اور دنیا کا بادشاہ تھا وہ دنیا کی بہتری کے لئے جو کچھ کر سکتا تھا وہ اس نے کیا میں ایک مصلح کا خلیفہ ہوں۔اگر آج اورنگ زیب زندہ ہو یا اور خدا تعالیٰ حق کی شناخت کے لئے اس کی آنکھیں کھول دیتا تو وہ بھی میرے ماتحتوں میں اسی طرح کام کرتا جس طرح اور کر رہے ہیں۔میرے مقابلہ میں اور نگ زیب کا ذکر کرنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ جبر سے لوگوں کو مسلمان بنایا کرتا تھا۔جب اسے بادشاہ ہو کر جبر میں کامیابی نہ ہوئی۔تو تمہیں کیا ہو سکتی ہے۔مگر یہ غلط ہے کہ اورنگ زیب لوگوں کو جبرا مسلمان بنایا کرتا تھا۔یہ صرف وہی لوگ کہتے ہیں جو آریہ ہیں یا آریوں کے پیچھے چلتے ہیں ورنہ تاریخوں سے ثابت ہے کہ وہ نہایت منصف اور عادل بادشاہ تھا۔