خطبات محمود (جلد 11) — Page 111
خطبات محمود E سال 1927ء اور بہت سی نہیں بھی آتیں۔بچہ پیدا ہو کر اس جہاں میں آتا ہے اور وہ اگلے جہان میں پہنچ جاتی ہیں۔دنیا میں مسکین رہ جانے والے بچے جن کی مائیں بچپن میں فوت ہو جاتی ہیں ان کے متعلق اگر دریافت کرد تو ان کا اکثر حصہ ایسا ہو گا کہ پیدائش کے وقت ما ئیں اس تکلیف کو برداشت نہ کر کے مرگئیں۔یا اس تکلیف کے اثرات ان کی صحت پر ایسے پڑے کہ بعد میں مر گئیں۔غرض عورت اپنے اوپر موت قبول کر کے بچہ دنیا میں لاتی ہے۔اور یہ اس کی بہت بڑی قربانی ہوتی ہے۔پھر دیکھو علم کے حصول کے لئے بچے کتنی موتیں قبول کرتے ہیں۔ایک بچہ اپنی ان نازک طاقتوں کے ساتھ جو ذرا سے جھونکے سے کملا جاتی ہیں۔راتوں کو بیٹھا محنت کرتا ہے تاکہ علم حاصل کرے۔ماں باپ کی بھی بہت قربانیاں ہوتی ہیں مگر جو بچہ محنت کر رہا ہوتا ہے اس کی قربانی بہت بڑا درجہ رکھتی ہے۔وجہ یہ کہ ماں باپ تو سمجھ کر اور فوائد کو مد نظر رکھ کر قربانی کرتے ہیں۔مگر وہ آٹھ دس سال کا بچہ جو دوسرے بچوں کو کھیلتا کودتا دیکھتا ہے مگر وہ محنت کر رہا ہوتا ہے۔بچپن کے لحاظ سے بیسیوں امنگیں اس کے دل میں پیدا ہوتی ہیں جن کو وہ دباتا ہے۔اسی طرح وہ بھی بہت بڑی قربانی کر رہا ہوتا ہے بلکہ اپنے لئے موت قبول کر رہا ہوتا ہے۔گو اس کا نتیجہ اور پھل وہی کھاتا ہے مگر اس وجہ سے اس کی قربانی کم شاندار نہیں ہو جاتی کیونکہ جب وہ قربانی کر رہا ہوتا ہے۔اس وقت وہ اپنے لئے نہیں کرتا۔بلکہ ماں باپ کے لئے کر رہا ہوتا ہے۔ایک آٹھ نو سال کے بچہ کو یہ بات مد نظر نہیں ہو سکتی کہ اگر علم پڑھوں گا تو بڑا ہو کر اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔بلکہ اس کے مد نظر صرف یہی بات ہوتی ہے۔کہ اس وقت میری ماں یہ چاہتی ہے کہ میں علم پڑھوں۔اور میرا باپ یہ چاہتا ہے کہ میں تعلیم حاصل کروں۔اس نیت اور اس ارادہ سے اس کی قربانی ایسی ہی شاندار ہو جاتی ہے جیسی وہ قربانی جو کسی دوسرے کے لئے کی جاتی ہے۔بہر حال علم حاصل کرنے کے لئے قربانی کرنی پڑتی ہے۔اور ہر چیز کے حاصل کرنے کے لئے قربانی ضروری ہے میں نے کئی دفعہ مثال دی ہے کہ بچے جھاڑیوں سے بیر کھاتے ہیں جنہیں کوئی روکتا نہیں۔مگر جھاڑیوں کے ساتھ جو کانٹے لگے ہوتے ہیں ان کی تکلیف بیر کھانے والوں کو اٹھانی پڑتی ہے۔غرض چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے بھی قربانی کی ضرورت ہے۔اور جب ہر ایک چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے قربانی ضروری ہے۔تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ کوئی بڑا انعام بغیر قربانی کے حاصل ہو جائے۔بے شک قربانیوں سے بڑے بڑے نتائج نکلتے ہیں۔مگر قربانی ہمیشہ اچھی نہیں ہوتی بلکہ قربانی