خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 96

خطبات محمود ۹۶ سال 1927ء پھر سکھ قوم اس حقیقت پر باسانی قائم ہو سکتی ہے۔جس پر اس کے گوروؤں نے اس کو قائم کرنا چاہا تھا مسلمانوں کو ان واقعات سے متاثر نہیں ہونا چاہئے۔جو سکھ ہندوؤں کی انگیخت سے کرتے ہیں۔بلکہ سکھوں کو ہندوؤں کے قبضہ سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پس میں ایک طرف تو مسلمانوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ایسے مواقع پر بجائے وقتی جوش دکھانے کے ہمیشہ کے لئے یہ فیصلہ کریں کہ اسلام کے لئے زندہ رہیں گے۔اور اسلام کے لئے ہی مریں گے۔دوسرے حُسن تدبیر سے سکھوں کو ہندوؤں کے پنجہ سے چھڑائیں۔اس کے لئے ہر مسلمان کا فرض ہونا چاہئے۔کہ سکھوں کو آگاہ کر دے کہ ان کا مسلمانوں سے ہی تعلق ان کے لئے ہر رنگ میں مفید ہو سکتا ہے۔اسی طرح ہر خاندان کی عورتیں جن کو موقع ملے۔سکھ عورتوں کو سمجھائیں کہ شرک نہیں کرنا چاہئے۔اگر ان دو تدبیروں پر عمل کیا جائے تو یقینا وہ مشکلات دور ہو سکتی ہیں۔جن سے اس وقت مسلمان گھبرا رہے ہیں۔اور تھوڑے عرصہ میں وہ تباہی جو بار بار مسلمانوں پر آتی ہے دور ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ اور عملی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔مگریہ دو تدابیر مجموعی طور پر ضرور اختیار کرنی چاہئیں۔کہ ایک تو وقتی جوش نہ دکھایا جائے۔بلکہ مستقل کام کرنے کی کوشش کی جائے چند سکھوں یا آریوں کے مارنے سے اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ہاں اگر مستقل طور پر کام کیا جائے گا تو فائدہ ہو گا۔پس میری سب سے بڑی نصیحت مسلمانوں کو یہ ہے کہ وہ اس آگ کو جو خدا تعالیٰ کی مصلحت کے ماتحت ان کے دلوں میں بھڑکائی گئی ہے۔دشمن کے خون کا چھینٹا دے کر نہ بجھا ئیں۔بلکہ اسے جلائیں جلا میں جلائیں حتی کہ دشمنی اور عداوت کے سب سامان بھسم ہو جائیں۔پس اپنے ہاتھ سے مقتولوں کے خون کا بدلہ نہ لو تاکہ تمہارے دل ٹھنڈے نہ ہو جائیں۔اور وہ طریق اختیار کرد کہ اس کفر و ضلالت کو جس نے بے قصور مسلمان قتل کرائے مٹادو۔یہ مرنے والوں کے لئے حقیقی زندگی ہوگی۔دوسری نصیحت یہ ہے کہ سکھوں سے دوستانہ تعلقات بڑھائے جائیں نہ کہ گھٹائے جائیں۔ذرا حسن تدبیر سے کام لیا جائے تو ان کی مسلمانوں سے سچی دوستی ہو سکتی ہے۔تیسری نصیحت یہ ہے کہ مسلمان اور تدابیر بھی اختیار کریں عجیب بات ہے مسلمان بار بار مار کھاتے ہیں مگر پھر بھی سنتے ہی رہتے ہیں۔اگر سکھ کر پائیں رکھتے ہیں۔اور گورنمنٹ مسلمانوں کو تلواریں رکھنے کی اجازت نہیں دیتی تو ہاتھ میں لاٹھی رکھنا کون سا مشکل ہے۔اگر مسلمان اپنا فرض سمجھ لیں کہ ہاتھ میں سونٹار کھنا ہے۔تو وہ بہت حد تک اپنی جانیں بچا سکتے ہیں۔قرآن کریم میں کہا گیا