خطبات محمود (جلد 11) — Page 3
خطبات محمود O سال 1927ء نئے سال کے لئے نئی قربانیوں کی ضرورت (فرموده ۷ / جنوری ۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : ہر نیا سال انسان کو نئے دور کی طرف توجہ دلاتا ہے اور نئی قربانیوں کے لئے متوجہ کرتا ہے۔در حقیقت اگر غور کریں تو سالوں اور دنوں کی تعیین صرف ہماری یاد کے قائم رکھنے کے لئے ہے۔سالوں اور دنوں کی تعیین سے ہماری یاد ایک دائرہ کے اندر محدود ہو سکتی ہے۔ورنہ سال میں کوئی نئی تبدیلی نہیں واقع ہوئی۔سال تو وقت کا ایک حصہ ہے اور وقت تقسیم ہونے کے قابل نہیں۔وہ اپنی ذات میں تقسیم نہیں ہو تا بلکہ وہ مسلسل چلا جاتا ہے۔پس جب ہم یہ کہتے ہیں کہ نیا سال شروع ہو گیا ہے تو اس سے یہ مطلب نہیں ہو تاکہ وقت میں کوئی تغیر ہو گیا ہے۔بلکہ یہ مطلب ہوتا ہے کہ ہم اپنی یاد کو تازہ کرنے کے لئے ایک مقام پر یہ کہتے ہیں کہ آؤ ہم نئے سرے سے کام شروع کریں اور اس رنگ میں ہم کام کے نئے دور کا اظہار کرتے ہیں تاکہ ہمیں وقت کا احساس ہو اور وقت ضائع نہ ہونے دیں۔اگر ہم یہ نہ کہیں کہ نیا سال شروع ہو گیا ہے تو وقت کا احساس نہ ہوتا۔اور اس کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو تا۔پس جب ہم سال کی یہ کہہ کر تقسیم کرتے ہیں کہ نیا سال شروع ہو گیا ہے تو اس کی صرف یہ غرض ہوتی ہے کہ وقت گذر رہا ہے اور وہ ہمارے اختیار میں نہیں۔اس لئے ہمیں پہلے سے زیادہ جد و جہد کرنی چاہئے۔اس سے ہمارا یہ مقصد نہیں ہو تاکہ وقت میں کسی قسم کی تبدیلی ہو گئی ہے۔بلکہ یہ مقصد ہوتا ہے کہ ہم بدل رہے ہیں۔وقت میں کسی قسم کا تغیر نہیں آجاتا۔وہ تو آدم کے وقت بھی وہی تھا جو آج ہے۔پس جو تغیر ہم بتانا چاہتے ہیں۔اس سے وہ تغیر مراد ہوتا ہے جو ہمارے اندر شروع ہے۔اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ نیا سال شروع ہو گیا ہے تو اس بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے کہ جس وقت