خطبات محمود (جلد 11) — Page 83
سال 1927ء ۸۳ خطبات محمود آپ کو مقام محمود حاصل ہو جائے گا۔ خدا مسلمانوں کو توفیق دے کہ رسول کریم ال ان کے ذریعے اس مقام محمود پر کھڑے ہو جائیں یہ وہ کام ہے جس میں اگر مسلمان غفلت کریں تو رسول کریم ال کو مقام محمود حاصل نہیں ہو سکتا باقی جو قیامت کے دن کا مقام محمود ہے وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور وہ تو آپ کو مل چکا ہے۔ جو آپ کو ملنے والا ہے اور جو آذان اور نماز کے ساتھ تعلق رکھتا ہے وہ ساری دنیا کو تبلیغ کر کے آپ کے شاخوانوں میں داخل کرنا اور اپنی اصلاح کرنا ہے۔ اذان تبلیغ کی قائم مقام ہے اور نماز اصلاح اصلاح کی قائم مقام پس مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ ایک طرف تبلیغ کریں اور دوسری طرف اصلاح نفس ۔ پھر آنحضرت ا اس مقام محمود پر پہنچ سکتے ہیں جو ہمارے اعمال سے تعلق رکھتا ہے۔ تبلیغ ہو اور اس حد تک ہو کہ دنیا کے سب لوگ آپ کی تعریف کرنے والے ہو جائیں اور کوئی بھی برائی اور مذمت کرنے والا باقی نہ رہے۔ پھر اصلاح نفس ہو۔ اور اس درجہ تک ہو کہ دشمن اور سخت سے سخت مخالف بھی اگر ایک مسلمان کو دیکھیں۔ تو اس کی تہذیب اس کی شائستگی اس کے تقوی اس کی طہارت اور اس کے تزکیہ کو دیکھ کر کہہ اٹھیں راہ واہ کیا ہی اچھا اور اعلیٰ نمونہ ہے۔ اور مبارک ہے وہ استاد جس نے ان کو ایسا بنایا۔ لیکن اگر تبلیغ نہ کی جائے تو آنے ائے تو آنحضرت ا کی تعریف کرنے و نے والوں کا دائرہ بہت محدود ہو جائے گا۔ اور مذمت کرنے والوں کا دائرہ بہت بڑھ جائے گا۔ اور جو تعریف کرنے والے ہونگے۔ ان میں سے بھی بہت خدمت کرنے والوں کی طاقت سے ڈر کر تعریف نہ کریں گے۔ اس طرح آپ کی ندمت کرنے والے تو بڑھتے رہیں گے۔ اور تعریف کرنے والے کم ہوتے جائیں گے۔ اور جب تعریف کرنے والوں کی کمی ہو اور مذمت کرنے والوں کی کثرت تو کس طرح رسول کریم ان کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کے لحاظ سے آپ کو مقام محمود حاصل ہو گیا۔ آنحضرت ا کو مقام محمود تک پہنچانے کے دو ہی ذریعے ہیں۔ اور وہ یہ کہ دوسروں میں تبلیغ اور اپنی اصلاح نفس۔ جو شخص تبلیغ کو کمال درجے تک پہنچاتا ہے۔ اور نفس کی اصلاح رات دن کرتا رہتا ہے۔ وہ تو حقدار ہے کہ کے اے خدا تو رسول کریم اے کو مقام محمود پر کھڑا کر ۔ لیکن جو شخص نہ تبلیغ کرتا ہے۔ اور نہ اپنے نفس کی اصلاح اس کا حق نہیں کہ کے وَابْعَثْةَ مُقَامًا محمودا کیا اس کی دعا اس کے منہ پر نہ ماری جائے گی کہ کیا سری گلی چیز لایا ہے۔ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو رسول کریم اللہ کو گالیاں دیتے ہیں تو ان میں تبلیغ نہیں کرتا ان کو اسلام میں نہیں لاتا۔ اور نہ اپنے نفس کی اصلاح کرتا ہے اور منہ سے کہتا ہے۔ محمد رسول اللہ اس کو مقام