خطبات محمود (جلد 11) — Page 81
خطبات محمود Al سال 1927ء طرح ہم یہ کبھی دعا نہیں کرتے کہ تو دوسرے اعلیٰ اعلیٰ مقام آپ کو دے لیکن ہم مقام محمود کے لئے ہر روز دعا کرتے ہیں کہ اے خدا تو آنحضرت ﷺ کو مقام محمود عطا کر۔جب رسول کریم فوت ہو گئے تو اب کون سا خطرہ ہے کہ شاید مقام محمود آپ کو نہ ملے۔آنحضرت ا کو الله العالية جو مقام محمود جنت میں ملنے والا تھا مل گیا۔جس طرح اور اعلیٰ اعلیٰ مقامات آپ کو مل گئے۔اسی طرح مقام محمود بھی آپ کو مل گیا۔پس اگر وہ مقام محمود جو اس دعا میں مانگا جاتا ہے۔جنت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے تو اس کا تو تیرہ سو سال پہلے فیصلہ ہو چکا۔اور وہ رسول کریم اے کو مل چکا ہے۔پھر اب اس کے متعلق درخواست کرنے کا کیا مطلب؟ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اس دعا میں آنحضرت ا کے لئے جو مقام محمود مانگتے ہیں۔وہ مقام جنت کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا۔بلکہ اس دنیا کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اور ایسے رنگ میں تعلق رکھتا ہے کہ ہمارے اعمال کا بھی اس میں دخل ہے۔ورنہ اگر دخل نہ ہو تا تو ہمارے دعامانگنے کی کیا ضرورت تھی۔پس یہ جو خطرہ ہے کہ شاید رسول کریم اے کو مقام محمود نہ مل سکے۔وہ یہ ہے کہ ایک مقام محمود وہ بھی ہے جو امت محمدیہ کے اعمال کے ذریعہ رسول کریم ﷺ کو مانا ہے۔اور چونکہ یہ خطرہ اس کے متعلق ہے کہ شاید ہماری کمزوریوں کی وجہ سے رسول کریم اے اس سے محروم رہ جائیں۔اس لئے مسلمان اس مقام محمود کے لئے دعا مانگتے ہیں نہ اس کے لئے جو جنت سے تعلق رکھتا ہے۔کیونکہ وہ تو آپ کو پہلے ہی مل چکا ہے۔یہ ہے اس دُعا کی حکمت جسے مسلمانوں نے اس وقت تک نہیں سمجھا۔ہم مانتے ہیں کہ قیامت میں بھی آنحضرت ﷺ کے لئے ایک مقام محمود مقرر ہے۔لیکن اس کے لئے ہماری دعاؤں کی ضرورت نہیں۔وہ تو آپکو مل چکا۔ہاں جس کے لیئے ہم دعا کرتے ہیں وہ ہمارے اعمال کے بدلے میں آپ کو ملنا ہے۔جو مقام محمود جنت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور جو آپ کو مل چکا ہے۔اس کے لئے نہ کسی دعا کی ضرورت ہے اور نہ کسی کی بد دعا سے وہ اب آپ سے واپس لیا جا سکتا ہے۔جس طرح کو ثر آپ کو ملا۔جس طرح دوسرے مقامات آپ کو ملے۔اسی طرح وہ بھی آپ کو مل گیا۔مگر وہ مقام محمود جس کے لئے دعا مانگی جاتی ہے وہ اس دنیا کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔پس ہمیں غور کرنا چاہئے کہ وہ کون سے ذرائع ہیں۔جن سے آنحضرت ا کو یہ مقام محمود مل سکتا ہے۔اگر مسلمان خدا تعالٰی کی باتوں پر سے اندھے ہو کر نہ گذر جاتے۔اگر مسلمان خدا کے رسول نے جو دعا سکھائی ہے اس کی حقیقت کو سمجھتے تو جان لیتے کہ کسی شخص کے لئے دو طرح کے ذرائع