خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 51

خطبات محمود ۵۱ سال 1927ء برکات رمضان سے فائدہ اٹھائیں (فرموده ۱۱/ مارچ ۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: رمضان جو اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے اور اس کی آیتوں میں سے ایک آیت۔وہ پھر ہمیں اس سال میسر ہوا ہے۔اور خدا کی رحمتوں اور فضلوں کے دروازے ان کے لئے جو اس کی رحمت اور اس کا فضل تلاش کرنے والے ہیں کھولے گئے ہیں۔ہر ایک کے ساتھ اس کی حیثیت کے لحاظ سے معاملہ کیا جاتا ہے۔یعنی ہر شخص کے ساتھ الگ الگ معاملہ کیا جاتا ہے۔جیسا وہ ہوتا ہے ویسا ہی اس کے ساتھ معاملہ کیا جاتا ہے۔جتنا کوئی خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کو تلاش کرتا ہے اتنی ہی اسے دی جاتی ہے۔ہر بر تن اپنی شکل اور وسعت کے برابر ان چیزوں کو اپنے اندر بھر سکتا ہے جو اس میں بھری جاتی ہے۔پس اس مہینہ سے وہی فائدہ اٹھائے گا جس نے اس کا ارادہ کیا اور جس نے خدا کے فضلوں کے پانے کی کوشش کی۔اور وہ محروم کے محروم ہی رہ جائیں گے جنہوں نے غفلت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے فضل پانے کی کوئی کوشش نہ کی اور جن کے قلوب پر غضب کی مہر لگ چکی ہے۔مہینے بے شک بابرکت ہوتے ہیں۔دن بے شک بابرکت ہوتے ہیں۔انسان بے شک بابرکت ہوتے ہیں۔خدا کے کلام بے شک بابرکت ہوتے ہیں۔علوم اور معارف بے شک بابرکت ہوتے لیکن یہ برکت وہی حاصل کرتا ہے جو اپنے آپ کو اس کے پانے کے قابل بناتا ہے۔دوسروں کیلئے یہ مہینے یہ دن یہ خدا کے کلام یہ علوم و معارف غضب اور لعنت کا موجب ہو جاتے ہیں۔خدا کے نبی جو دنیا میں آتے ہیں وہ رحمت ہوتے ہیں۔کبھی وہ صرف رحمت قوم ہوتے ہیں اور کبھی "رحمت للعالمین" ہوتے ہیں۔یعنی کبھی ان کی رحمتیں محدود ہوتی ہیں اور محدود عرصہ کے