خطبات محمود (جلد 11) — Page 49
خطبات محمود ۴۹ سال 1927ء فرشتے نے جو یہ کہا تھا۔تفسیروں والے اور دوسرے لوگ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تک ہی بتاتے ہیں۔اس کا یہ مفہوم تھا۔کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ بندے کا کام ہے یہ تو بندے کے لئے ہے۔اور وہی کرتا ہے۔اس کے آگے خدا کرتا ہے۔اور جو بات خدا کرتا ہے بندہ کر نہیں سکتا۔غرض اب سورہ فاتحہ کو لیکر اگر میں کھڑا ہو جاؤں۔کوئی مضمون ہو۔مجھے ایسا نکتہ سمجھا دیا جاتا ہے جو مجھے معلوم نہیں ہوتا۔حتی کہ لیکچروں کے وقت بھی ہر دفعہ مجھے وہی فرشتہ نئے نئے نکات سمجھا دیتا ہے۔بندوں کے دلوں کی تو حد بندی ہے۔لیکن خدا کے احسانوں کی حد بندی نہیں۔وہ جتنا چاہے جب چاہے بندے پر احسان کر سکتا ہے۔در اصل علوم خدا ہی کی طرف سے دیئے جاتے ہیں جو الہاما نازل ہوتے ہیں۔اگر چہ استاد بھی پڑھاتے ہیں۔مگر وہ خود بھی اس بات کے محتاج ہیں کہ انہیں کسی اور جگہ سے بتایا جائے۔اور پھر ان کے پڑھائے ہوئے علوم ان کے برابر کب ہو سکتے ہیں۔جو الہام کے ذریعہ پڑھائے جاتے ہیں۔ایک استاد تھا۔اس نے چند خطوط جمع کر کے طاقعے پر رکھ چھوڑے تھے اور اپنے شاگردوں کو طالعے پر پڑے ہوئے خط رٹا دیتا تھا۔ایک دفعہ ایک لڑکے کے باپ کے پاس کہیں سے خط آیا۔اس نے بیٹے کو پڑھنے کے واسطے دیا۔بیٹے نے انہیں خطوں کا مضمون پڑھنا شروع کر دیا۔جو استاد نے رٹائے ہوئے تھے باپ نے کہا کیا کر رہے ہو۔بیٹے نے جواب دیا خط پڑھ رہا ہوں۔باپ نے حیران ہو کر کہا اس میں تو یہ نہیں لکھا اور اسے استاد کے پاس لے آیا وہاں آکر اس نے وہ خط جو استاد نے اسے رٹایا ہوا تھا پڑھ دیا اور کہا یہی خط پڑھنا آتا ہے جو استاد جی کے طاقچہ پر ہے تو استادوں کا پڑھایا ہوا طاقعے پر رکھے ہوئے خطوں کی مانند ہوتا ہے۔اصل علم خدا ہی سے انسان حاصل کرتا ہے۔لیکن اس کے لئے کوشش کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ کوشش یہی ہے کہ خدا سے ہی کہے کہ مجھے علم سکھائیے۔اور اس میں زیادتی کیجئے جس شخص کے کاموں کی بنیاد محض عقل و فہم پر ہوتی ہے۔اسے کیا خبر کہ دشمن نے کہاں سے آتا ہے اور کیا اعتراض کرتا ہے اس لئے وہ اکثر تکلیف میں پڑتا ہے اور کئی اعتراضوں کا جواب نہیں دے سکتا۔اور نہ ہی اپنی ذات کے لئے کوئی مفید بات پیدا کر سکتا ہے۔لیکن جس کی بنیاد اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنعَمتَ عَلَيْهِمُ پر ہوتی ہے وہ ہر موقع پر خدا تعالیٰ سے مدد پاتا ہے۔اور ان علوم کی وجہ سے جو خداتعالی کی طرف سے عطا کئے جاتے ہیں۔ہر موقع پر اسے غلبہ دیا جاتا ہے۔اور ایاگ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيم پر اپنی بنیاد رکھنے والے میں خدا بول رہا