خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 537

خطبات محمود ۵۳۷ سال ۱۹۲۸ء سادہ ہی ہوتا ہے۔جہاں پر تکلف دعوت ہو وہاں آٹے کا خرچ سب سے کم ہوتا ہے لیکن جہاں سادہ ہو وہاں آٹا بہت زیادہ خرچ ہوتا ہے۔باہر سے بھی اور قادیان کے دوستوں نے بھی لکھا ہے کہ روٹی کچی ہوتی ہے جس میں پختہ حصہ کھا لیا جاتا ہے اور کنارے کاٹ کر پھینک دیئے جاتے ہیں۔غلط بیانی کی تو کسی کو ضرورت ہی نہیں مگر بعض اوقات غلط فہمی ہو جاتی ہے لیکن یہ بات اس کثرت سے آئی ہے کہ اس کو غلط فہمی پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔معلوم ہوتا ہے ایسا ہی ہوتا ہے اور مجھے حیرت ہے کہ آج تک اس پر کارکنوں کی نظر کیوں نہیں پڑی۔اس میں کیا شبہ ہے کہ کچی روٹی نہیں کھائی جاسکتی اور اس طرح سینکڑوں آدمیوں کا کھانا ٹکڑوں میں چلا جاتا ہے۔اور ضائع ہو جاتا ہے۔میں پچھلی غلطی پر اظہار افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔میں یہ بھی جانتا ہوں کہ کارکنوں کے راستہ میں مشکلات بھی ہوتی ہیں۔اور میں نہیں سمجھتا کہ دنیا میں کوئی اور جگہ بھی ایسی ہو جہاں اتنے آدمیوں کا کھانا ایک انتظام کے ماتحت تیار ہو تا ہو۔بعض عرسوں پر بے شک هجوم زیادہ ہوتا ہے لیکن وہاں صرف ایک روٹی ہی ملتی ہے اور ایک روٹی دے دینا معمولی بات ہے۔لیکن چودہ پندرہ ہزار آدمیوں کو کئی دن تک کھانا کھلانا بہت مشکل ہے۔اور اتنے بڑے انتظام میں کو تاہیاں ہو سکتی ہیں مگر پھر بھی میں کہوں گا کہ کارکنوں کا اس طرف توجہ نہ کرنا قابل افسوس ہے۔اور میں امید کرتا ہوں کہ اب وہ ضرور اس طرف توجہ کریں گے۔میں نے بھی ایک سال لنگر خانہ میں کام کیا ہے مگر میرا تجربہ اتنا قلیل ہے کہ میں انہیں کوئی مشورہ نہیں دے سکتا۔میرے وقت میں صرف ستائیس سو آدمی جلسہ میں شامل ہوئے تھے اس لئے میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ یوں کر لو۔مگر یہ مشورہ ضرور دوں گا کہ وہ کوئی نہ کوئی تجویز ضرور نکالیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے لكل داء دواوا یعنی ہر مرض کے لئے اللہ تعالی نے دوا پیدا کی ہے اور کچی روٹی بھی ایک مرض ہے اس کی دوا بھی ضرور ہوگی اگر چہ مجھے معلوم نہیں۔ان تجاویز میں جو تخفیف اخراجات کے سلسلہ میں مجھے موصول ہوئی ہیں بعض بہت لطیف اور کار آمد ہیں۔طالب علموں میں سے احمد یہ سکول کے بوائے سکاؤٹس کی تجاویز بہت کار آمد اور مفید ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس کے متعلق بہت غور و خوض سے کام لیا ہے۔اگر چہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں مگر نہایت لطیف ہیں اور ان سے بہت بچت ہو سکتی ہے۔میں ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے مشورے دیئے ہیں خصوصاً احمد یہ سکول کے سکاؤٹس کے متعلق اظہار خوشنودی کرتا ہوں۔وہ ایسے لطیف ہیں کہ جب میں نے ان کو پڑھا تو مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ