خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 535

خطبات محمود ۵۳۵ سال ۶۱۹۲۸ شروع سے ہی اس نام کا مخالف ہوں کیونکہ یہ نام بہت دھوکا دینے والا ہے۔اور جس سال یہ رسم شروع ہوئی تھی میں نے کہا تھا کہ جو بات آپ لوگ چاہتے ہیں اسے بہادری سے پیش کریں غلط ناموں سے اسے کیوں تعبیر کرتے ہو۔مگر اس وقت ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی اور میں نے حکماً اسے بند کرنا اس لئے مناسب خیال نہ کیا کہ یہ کوئی دینی بات نہ تھی اگر چہ یہ رواج حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے وقت میں بھی تھا کہ بعض لوگوں کے لئے خاص کھانے تیار کئے جاتے تھے مگر ان دنوں لوگ بہت کم آتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے ایام کے آخری جلسہ پر صرف سات سو آدمی تھے۔چونکہ اس وقت اتنے زیادہ لوگ نہ آتے تھے اس لئے اسی نسبت سے خاص کھانا کھانے والوں کی تعداد بھی بہت کم ہوتی تھی اس لئے ایسا کھانا گھر سے ہی آجایا کرتا تھا۔اگر میں اکیس آدمی خاص کھانا کھانے والے ہوں تو اتنے لوگوں کے لئے گھر میں کھانا تیار کر لینا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔بہر حال اس زمانہ میں ایسا انتظام ضرور تھا گو ایسا وسیع نہیں تھا جتنا اب ہے۔آہستہ آہستہ وہ لوگ جو انتظام میں زیادہ دخل اور تصرف رکھتے تھے اپنے لئے اور پھر اپنے دوستوں کے لئے ایسے کھانے پکوانے لگے۔اس پر اعتراض بھی ہوئے اور معترضین نے یہ دلیل پیش کی کہ مسیح موعود کے لنگر میں خاص کھانے کا کیا ذکر ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے جب یہ اعتراض پیش ہوا تو آپ نے فرمایا جو فرق خدا نے رکھا ہے میں اسے کیسے مٹا دوں۔بعض لوگ وال کے نام سے بھی ڈرتے ہیں حالانکہ بعض صورتوں میں وہ گوشت سے بھی زیادہ مقوی ہوتی ہے تو جو عادت وہ گھر سے لے کر آیا اسے ہم کس طرح بدل سکتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیصلہ کے خلاف ہم نہیں کر سکتے۔جلسہ کے دنوں میں اگر خاص ، عام اور درمیانہ درجہ کے کھانے کا انتظام کیا جائے تو نہ تو اتنے کارکن میسر آسکتے ہیں اور نہ ہی اخراجات برداشت کئے جاسکتے ہیں۔نیز اس طرح عام لوگوں کو شکایت کا موقع بھی ملتا ہے کہ فلاں کو خاص کھانا دیا گیا مجھے کیوں نہیں دیا گیا اس لئے کارکنوں نے اس سے بچنے کے لئے یہ بہانہ کیا کہ اس کا نام پر ہیزی کھانا رکھ دیا جائے۔جس سے سننے والا یہی سمجھ سکتا ہے کہ یہ بیماروں کا کھانا ہے اور مئولفتہ القلوب کے طور پر بعض احمدیوں اور غیر احمدیوں کو بھی اس پر ہیزی میں شامل کر لیا گیا۔مگر کجا مانند آن رازے کزو سازند محفلیا۔ہوتے ہوتے پر ہیزی کافی تعداد تک جا پہنچی۔پہلے سال تو کار کن بہت خوش ہوئے کہ اس طرح